جیل کی پہلی رات ٗ جاوید لطیف کی شکایتیں

لاہور ( پبلک نیوز) مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف ایک رات جیل میں رہنے کے بعد بہت پریشان نظر آئے اور انہوں نے پولیس کے سلوک الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے میرے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے میں کوئی دشمن ہوں ۔

میاں جاوید لطیف نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے جو سوچ دی ہے میں اُس شمع کو لے کر چلتا رہوں گا ٗپی ڈی ایم کے حوالے سے اُنکا کہنا تھا کہ اگر اس تحریک کوئی جماعت چھوڑے گی وہ جماعت عوام کی نظر نہیں بُری بنے گی ٗپی ڈی ایم ایک عوامی تحریک ہے اسے ہر جماعت کو کامیاب بنانا ہوگا ٗلوگ پریشان ہیں کہ کشمیر کی آواز اٹھانے والے کوئی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ پولیس کا رویہ ایسے رہا جیسے کسی دشمن کے ساتھ ہوتا ہے ٗ مجھے رات اندھیرے میں گھماتے رہے ڈراتے رہے مگر میں ڈرنے والا نہیں ہوں ٗمجھ سے کوئی پاکستانیت چھین نہیں سکتا ٗہم بطور سیاستدان غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہیں گے ٗمیری کسی جاننے والے کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ٗمیرے ساتھ رویہ ایسا ہے جیسے کسی دشمن کے ساتھ ہوتا ہے ۔

مزید برآں ماڈل ٹاؤن کچہری میں لیگی ایم این اے میاں جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ٗ عدالت نے میاں جاوید لطیف کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں دے دیا ٗمیاں جاوید لطیف کو دوبارہ 02 مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں