انتخابی جلسے بھارت میں کورونا کے اضافے کا سبب بنے؟

کورونا وائرس: کیا انتخابی جلسے ہندوستان میں COVID-19 کے معاملات میں اضافے کا ایک سبب تھے؟ بھارت میں کوویڈ 19 میں گزشتہ کچھ دنوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وباء کے شدت اختیار کرنے کی وجہ سے بھارت میں صحت کا ںظام بری طرح متاثر ہواہے۔

کچھ سماجی تنظیموں کی جانب سے ریاستی انتخابات کی تیاری کے دوران پر ہجوم ریلیوں کے انعقاد کو اس وائرس میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ برسراقتدار بی جے پی نے کہا کہ ریلیوں کا وائرس پھیلنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کے رہنماء وجے چوٹھائی ویل نے نے بتایا کہ “کورونا میں اضافے کا مذہبی یا سیاسی اجتماعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

ستمبر 2020 کے وسط میں اس میں کورونا کی شرح میں کمی آنے کے بعد رواں سال فروری سے ہی ملک میں روزانہ انفیکشنز تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ دریں اثنا ہندوستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سےمغربی بنگال ، آسام ، کیرالہ اور تمل ناڈو میں ریاستی انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہمات چلائی گئیں۔ ان انتخابی مہموں کا آغاز مارچ کے شروع میں ہوا تھا، اور اسی ماہ کے آخر میں ووٹنگ کا آغاز ہوا جو رواں ماہ کے دوران بھی جاری رہا۔

ان مہمات کے دوران اکثر بہت بڑی ریلیاں ہوئیں جن بڑے ہجوم نے حصہ لیا۔ اس دوران ایس او پیز پر بہت کم عمل کیا گیا اور بہت کم شرکاء نے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے ریاست مغربی بنگال میں اس طرح کے اجتماعات کے بارے میں انتباہ جاری کیا تھا اور بالآخر 22 اپریل کو ریاست میں اجتماعات پر پابندی عائد کردی تھی کہ بہت سارے سیاست دان صحت کے تحفظ کے قوانین پر عمل نہیں کر رہے تھے۔

مغربی بنگال کی ریاست میں ہر روز کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسوں کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، اضافہ مارچ کے آخر میں شروع ہوا ، اور اس کے بعد اس میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔ آسام ، کیرالہ اور تمل ناڈو میں انتخابات کے دوران کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ نوٹ کی گئی۔ تاہم ایسا دیگر ریاستوں میں بھی دیکھا گیا جہاں الیکشن نہیں ہوئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم ان اعداد وشمار سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عوامل ہیں جو ان سیاسی اجتماعات پر انفیکشن کی منتقلی کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔اگر لوگ معاشرتی فاصلے کے اصولوں یا اچھی وینٹیلیشن کی موجودگی کے بغیر، طویل عرصے تک ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں تو انفیکشن کی منتقلی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ شمالی ہندوستان میں ایک بڑا مذہبی تہوار منایا جا رہا ہے جو مارچ کے شروع سے ہی چل رہا ہے۔ “کمبھ کے میلے” میں پورے ملک سے لاکھوں افراد نے شرکت کی ہے، اور وہاں ایس او پیز پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔ 10 اپریل سے 14 اپریل کے درمیان اس میلے میں شرکت کرنے والے 1،600 سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو ئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں