“پاکستان، ترکمانستان میں برادرانہ تعلقات، ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں”

اشک آباد (پبلک نیوز) پاکستانی ایوانِ بالا کے سربراہ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکمانستان کے مابین دوطرفہ برادرانہ تعلقات ایک دوسرے پر اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقوام کے مابین اعتماد اور امن سازی کی اہمیت کے اُجاگر کرنے کے مسئلے پر اطمینان محسوس کر رہا ہوں۔

ترکمانستان میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس بین الاقوامی امن و اعتماد کو مضبوط کرنے میں پارلیمنٹرینز کے کردار پر منعقد ہو رہی ہے۔ میرے لئے اس کانفرنس میں شرکت اور شرکاء کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کا موقع باعث فخر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس اہم موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا تمام تر سہرا ترکمانستان کی مجلس کی چیئرپرسن گلسات ممیدواکو جاتا ہے۔ کرونا وبا کے باعث سفری پابندیوں اور مشکلات کے باوجود اس نوعیت کی بین الپارلیمانی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے ترکمانستان کی قیادت اور عوام کو آزادی کے 30 سال مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں باہمی معاونت اور رابطہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ تجارت کے فروغ کیلئے باہمی سمجھوتوں کی یاداشتوں پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔

محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے تعاون کیلئے نئی راہیں ہموار ہونگی۔ دوطرفہ یا کثیر الجہتی تعاون ہمیشہ امن اور اعتماد کی بنیاد پر ہی فروغ پاتا ہے۔ کانفرنس کا موضوع اس ضمن میں انتہائی اہم ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے ترکمانستان کی مثبت غیر جانبدارانہ حکمت عملی کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 73 ویں جنرل اسمبلی میں ترکمانستان کی جانب سے سال2021 کو امن اور اعتماد کا سال قرار دینا ترکمانستان کی مثبت غیر جابنداریت کی پالیسی کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کی قیادت بھی اسی پالیسی پر قائم ہے۔ وزیراعظم عمران خان اقوام عالم کے مابین امن اور اعتماد کی فضاء کی بحالی کے قیام کیلئے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی و عالمی سطح پر ڈائیلاگ کو جارحیت کے اوپر ترجیح دی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ پر اس تناظر میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ ہو نے کی حیثیت سے اراکین پارلیمنٹ کو بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ اوراعتماد کی فضا پیدا کرنے کیلئے تعمیری کردار اداکرنا ہوگا۔ کسی بھی ملک کیلئے علاقائی و عالمی امن و اعتماد ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ نہ صرف اقوام بلکہ تمام خطے اعتماد پر مبنی شراکت داری کے تحت مستفید ہوتے ہیں۔

سینیٹ چیئرمین کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں شریک تمام سربراہان اپنے خطوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ہمیں امن، ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات پر مل کر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ آئیے ہم عوام،خطے اور علاقائی خوشحالی کیلئے اپنے رنجشوں کو بھلا کر آگے بڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں