ساحر لودھی کو جون ایلیا کے شعر سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑ گئی

کراچی ( پبلک نیوز) ساحر لودھی پاکستانی شوبز کا ایک بڑا نام ہیں ٗ وہ علم و ادب سے اپنے تعلق کی وجہ سے ریڈیو پر بہت مشہور شو بھی کرتے ہیں جس میں شعر و شاعری کا انتخاب سنایا جاتا ہے لیکن ساحر لودھی ان دنوں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہیں کیونکہ انہوں نے شہرہ آفاق شاعر جون ایلیا کے ایک شعر کو فن عروض یا قافیہ ردیف کے حوالے سے غلط قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق ساحر لودھی رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہے تھے جس میں انہوں نے بیت بازی کا ایک سیگمنٹ بھی رکھا تھا ٗ اس میں شرکا سے شعر سنے جاتے اور ساحر لودھی نے ججز کا ایک تین رکنی پینل بھی ترتیب دے رکھا تھا۔ ایک مہمان جس کا تلفظ اور پڑھنے کا انداز بھی انتہائی غلط تھا اس نے شہرہ آفاق شاعر جون ایلیا کا یہ شعر پڑھا ۔
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

اب یہ شعر فن عروض اور قافیہ ردیف کے تمام قواعد و ضوابط پر پورا اترتے ہیں لیکن ساحر لودھی شاید اس کو سمجھ نہ سکے اور انہوں نے فوراً کہا کہ یہ شعر غلط ہے ٗ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ پروگرام میں شریک تینوں ججز نے بھی ساحر لودھی کی ہاں میں ہاں ملائی اور اس شعر کو غلط کہا۔

ساحر لودھی اور خاص طور پر ادب شناس منصفوں کی اس بے ادبی پر پاکستانی عوام شدید سیخ پا ہوگئے ٗ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہو گیا اور لوگوں نے ساحر لودھی کی شعر شناسی پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھادئیے۔ ایک صارف نے ٹویٹ کیاکہ ’’ ساحر لودھی کی لاعلمی اور کج بحثی پہ کوئی حیرانگی نہیں ہوئی مگر یہ ججز کون ہیں ؟ ان کا علمی معیار کیا ہے ؟افسوس کبھی ضیاء محی الدین اور طارق عزیز جیسے کمال کے شعر شناس میزبان ہوتے مگر اب تو قحط الرجال ہے‘‘۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’عامر لیاقت اور ساحر لودھی وہ ہیرو ہیں جو اس رمضان میں ہمیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ‘‘۔ سوشل میڈیا پر ایک میم بہت زیادہ شیئر ہوئی جس میں ساحر لودھی کی تمثیل مرزا غالب سے دیتے ہوئے شعر میں ردوبدل کے ساتھ لکھا گیا ۔
ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی ساحر بھی تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں