برطانوی عدالت کا سب مسلمانوں کو حلال کھانا دینے کا حکم

لندن ( ویب ڈیسک ) ہوٹل نے ایک مسلمان خاندان کو سحری اور افطاری کے موقع پر حلال کھانا دینے سے انکار کیا اور برطانوی عدالت نے حکم دیا کہ پورے ملک میں قرنطینہ سب مسلمانوں کو سحری اور افطاری کے موقع پر حلال کھانا فراہم کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق روبینہ راجہ 22 اپریل کو برطانیہ پہنچیں جہاں انہیں ایئر پورٹ سے لندن کے ایک نجی ہوٹل میں قرنطینہ کیلئے بھیج دیا گیا ٗ ان کے ساتھ ایئر پورٹ سے ہی ایک سکیورٹی گارڈ بھیجا گیا ٗ جس نے انہیں سیدھا لے جا کر ہوٹل کے کمرے میں بند کر دیا ٗ ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کو سیل کیا جا چکا تھا جبکہ ہوٹل کے عملے نے بتایا کہ دس دن تک روبینہ کے کمرے کی صفائی نہیں ہو گی ٗ وہ کمرے سے باہر بھی نہیں نکل سکیں گی اور انہیں صرف روزانہ 15 منٹ کیلئے ہوٹل کے قریب ہی چہل قدمی کرنے کی اجازت ہو گی۔

لیکن بنیادی مسئلہ اس وقت ہوا جب روبینہ نے ہوٹل انتظامیہ نے سحری اور افطاری کیلئے حلال فوڈ مانگا ٗ ہوٹل انتظامیہ نے بتایا کہ صرف مقرر وقت پر ہی کھانا مل سکتا ہے ۔ لندن میں سحری کا وقت صبح 3 بجے اور افطاری کا وقت 8:15 ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کے واضح انکار کے بعد روبینہ نے اپنے وکیل فدا چوہدری کے ذریعے لندن کے ہائیکورٹ برائے انصاف میں کیس دائر کردیا ۔

برطانوی جج نے روبینہ کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد برطانوی حکومت کو حکم دیا کہ وہ روبینہ راجہ کو سحر و افطار میں حلال کھانے کی فراہمی یقینی بنائے ۔ ناصرف روبینہ راجہ بلکہ اس وقت برطانیہ جتنے بھی مسلمان قرنطینہ میں ہیں ا ن کو سحری اور افطاری کے اوقات میں حلال کھانا فراہم کرنا برطانوی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں