’’(ن) لیگ جیتے تو ٹھیک ٗ پی پی جیتے تو دھاندلی‘‘

کراچی ( پبلک نیوز) سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ (ن) لیگ دہرے معیار کو بند کرے ٗ ان کی نواز شریف کی کیا با تیں ہوئیں ٗ آصف زرداری اور فریال تالپور کو ضمانت ملے تو ڈیل ٗ شہباز شریف ٗ حمزہ شہباز اور سعد رفیق کو ضمانت ملے تو جمہوریت کی فتح ٗ شاہد خاقان عباسی بتائیں کہ ان کا نام ای سی ایل سے کون سی طاقت سے نکالا ؟انہیں باہر جانے کی اجازت کس نے دی ؟

پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ہمارے پاس فارم 45 آتے رہے ٗ جس طرح آتے رہے ہم وہ رزلٹ لوگوں سے شیئر کرتے رہے ٗ مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ مفتاح اسماعیل نے الیکشن بند ہونے کے چند گھنٹوں بعد اپنی فتح کا اعلان اور خوشی کا جشن کس بنیاد پر منانا شروع کردیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ اب سوال ان سے ہونا چاہیے کیا کہ آپ کے پاس فارم 45 تھے ٗ کیا آپ کے پاس رزلٹ تھا ٗ آپ نے کس بنیاد پر کہا کہ ہم جیت گئے ہیں میڈیا کو بھی بتانا شروع کردیا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف یہ کہہ دینا کہ دھاندلی ہوئی ہے کافی نہیں ہے ٗ ان کو بتانا چاہیے کہ کیا دھاندلی ہوئی ہے ٗ الیکشن کے دن جب پولنگ شروع ہوئی اور جب الیکشن ختم ہوا ٗ تب تک مجھے کسی ایک سیاسی جماعت کا کوئی اعتراض بتائیے جس میں انہوں نے کہا کہ ہو کہ کہیں پر جعلی وو ٹ ڈالے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہیں پر کسی پارٹی نے یہ کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹ کو بیٹھنے نہیں دیا گیا ٗ کہیں پر کسی پارٹی نے یہ کہا ہو کہ ان کے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا یا ان کو رزلٹ نہیں دیا گیا ٗ کہیں سے ایک شکایت نہیں ہے ٗ ہماری توقع کے مطابق نتائج اس لئے ہیں کہ ہم نے یہ الیکشن جیتنے کی تیاری کی تھی ٗ ہم الیکشن جیتنے کے ہی موڈ سے اس میدان میں اترے تھے ۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم بڑے پراعتماد تھے کہ ہم مقابلے میں ہیں اور ہم امید بھی کر رہے تھے پیپلز پارٹی کا مقابلہ ٹی ایل پی اور (ن) لیگ سے ہو گا ٗ ہمارے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ٗ باقی اگر کوئی ابتدائی پولنگ سٹیشن کے نتائج پر حتمی نتیجہ نکال کر بیٹھے تھے تو ان کیلئے حیرانی کی بات ہو گی ہمارے لئے کوئی حیرانی کی بات نہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ میڈیا پر جو نتائج بتائے جا رہے تھے جن میں مسلم لیگ(ن) کو سب سےآگے دکھا رہے تھے ٗ وہ کسی ایک لمحے کیلئے بھی پیپلز پارٹی سے آگے نہیں نکلے ٗ لیکن بہرحال وہ دکھاتے رہے ٗ اب اگر کسی کو اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن کو اس کا جواب دینا چاہیے ٗ یہ پیپلز پارٹی کا کام نہیں کہ وہ بتائے کہ کیوں دیر سے نتائج آئے ٗ باقی ہمارے پاس ہمارے پولنگ ایجنٹ نتائج لاتے رہے اور جیسے جیسے وہ کمپائل ہوتے رہے میں اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں