” چاہتےہیں الیکشن ہارنےوالابھی نتیجہ قبول کرے“

اسلام آباد(پبلک نیوز) انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کر دی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کس انداز میں سینیٹر بنے وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا تحریک انصاف نے سینیٹ انتخابات کیلئےاوپن بیلٹ کی کوشش کی مگر اپوزیشن مکر گئی، ہر انتخابات کے بعد نتیجے پر جھگڑا ہوتا ہے، عمران خان نے کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر کی بات کی تھی، آج دنیا بھر میں نیوٹرل ایمپائر ہیں۔ وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد وزیراعظم نے پہلے دن ہی دھاندلی کے الزام پر پارلیمانی کمیٹی بنادی تھی۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ آر ٹی ایس بیٹھا ہے، ہم نے تفصیل مانگی نہیں دی گئی۔ فارم 45 کی تفصیل مانگی، لیکن کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ  دو آپشنز ہیں کہ جیسا سسٹم چل رہا ہے چلنے دیں یا اس کو تبدیل کریں، وزیراعظم عمران خان نے دوسرا راستہ اپنایا اور انتخابی نظام کو ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھایا، دھاندلی کے الزامات کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے لیے سیکشن ایک سو تین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں، ترامیم میں ایسی کوئی چیز نہیں جو کسی ایک جماعت کے مفاد میں ہو، انتخابی اصلاحات نہ ہوئیں تو آئینی اداروں پر عدم اعتماد کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

 انہوں نے کہ اپوزیشن کو ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ماڈل دکھائیں گے جس کو وہ خود منتخب کریں، الیکٹرانک مشین ماڈل پی ٹی آئی نے نہیں بنائے بلکہ قومی اداروں نے بنائے ہیں، ملک زمین اور بلڈنگ سے نہیں اداروں اور عوام سے بنتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں