وزیراعظم اسی ہفتہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان اسی ہفتہ سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے، دورے میں سعودی ولی عہد اور سعودی قیادت سے اہم۔ ملاقاتیں کی جائیں گی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دورے کے دوران گرین سعودی عرب کے حوالے سے معائدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے آج او ائی سی کے سفراء سے ملاقات میں اہم ملاقات کیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں ناموس رسالت کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کاش ہم مغرب کو بتانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ناموس رسالت ہمارے لیے اہم ہے۔ اسلام کو دہشت گردی ور فرقہ واریت سے جوڑنا بہت بڑ اظلم ہے۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اسلام کی تشریح کے حوالے سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے سفرا نے وزیراعظم کے وژن کو سراہا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اسلامی یونیورسٹی کے اندر جامعہ ملک سلمان بن عبد العزیز بنائی جائے گی جس میں 12 ہزار نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکیں گے۔ وزیر اعظم سعودی عرب میں طاق راتیں روزہ رسول اور بیت اللہ میں گزاریں گے۔ ہمارا ایجنڈا امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد ہے۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم نے سعودی عرب ایمبیسی سے متعلق شکایات پر سخت اقدامات کیے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کے اندر 7 ماہ میں توہین رسالت اور جبری مذہب کی تبدیلی کا ایک کیس بھی نہیں آیا۔

پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ یورپی یونین اور امریکی سفرا کو دعوت دیتے ہیں پاکستان آکر انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کا جائزہ لیں۔ یورپی یونین کی قرارداد حقائق کے خلاف ہے۔ کورونا میں اجتماعات کو روکا اعتکاف پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ انسانی جان کی حرمت سب سے بڑھ کر ہے۔

ان کا کہناتھا کہ این سی او سی نے طاق راتوں، شب قدر اور نماز عید کے حوالے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کورونا کے باوجود مساجد کو بند نہیں کیا گیا۔ مساجد میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہورہا ہے،اس حوالے سے پروپیگنڈہ کو مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ناموس رسالت کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی۔ وہ دن جلد ائے گا جب عالمی سطح پر ناموس رسالت کے حوالے سے قانون سازی ہوگی۔ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات کے حوالے سے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ پاکستان کے عرب ممالک سے تعلقات بہترین ہیں۔ ناموس رسالت کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے موقف کی عالمی لیڈروں نے حمایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں