فردوس عاشق، سونیا صدف میں جھگڑے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اپنے کسی نہ کسی بیان کی وجہ سے پہلے ناقدین کے نشانوں پر آتی تھیں، ان کے وہ بیانات کسی قدر ہلکے اور قابل برداشت یا پھر یوں کہہ لیں کہ سوفٹ کور ہوا کرتے تھے۔

مگر گزشتہ روز جب رمضان بازار پہنچیں تو اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ ان کی بات چیت ہوئی۔ یہ بات چیت بڑھتی بڑھتی تلخ کلامی تک پہنچی لیکن فردوس عاشق اعوان کا پارہ تھا کہ ہائی سے ہائی تر ہوتا چلا گیا۔ بیچ پنڈال معاون خصوصی نے اے سی سونیا صدف کو جھاڑ پلا دی۔

جھاڑ پلانے تک بات تب پہنچی جب فردوس عاشق تلخ لہجہ میں ان کو مختلف امور پر بات چیت کر رہی تھیں تو سونیا صدف نے بیچ میں ان کو ٹوکنے اور ان کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی۔

لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچ کیسے؟ یہ سارا معاملہ آخر شروع کہاں سے ہوا؟ اس سارے ایشو کے پیچھے محرکات کیا تھا؟ کیا سونیا صدف واقعی قصور وار تھیں یا پھر فردوس عاشق اعوان کے کاندھوں پر اس ہنگامی آرائی کا بوجھ پڑتا ہے؟

فردوس عاشق اور سونیا صدف کے درمیان ہونے والے اس واقعہ کی اصل وجہ سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ یہ تلخ کلامی یا جھگڑا کسی بڑے نقصان یا لاکھوں روپے کے معاملہ کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ محض ایک کلو چینی کی باعث ہوا۔ ہاں جی صرف ایک کلو چینی نے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب اور اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔

یہ ایک کلو چینی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ایک روز سے پورے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہے۔ ایک کلو چینی کی وجہ سے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم ترین رہنماؤں نے ٹویٹ پیغام جاری کیے۔ ایک ہی کلو چینی نے ملک کی اچھی خاصی معتبر شخصیات بات کرنے پر مجبور کر دیا۔

معاون خصوصی اس ایک کلو چینی کی وجہ سے برہم ہوئیں۔ انھوں نے سوال کیا تھا کہ حکومت نے اگر فی کس دو کلو چینی دینے کے احکامات جاری کیے ہیں تو ان پر عمل در آمد کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اے سی سونیا صدف سے انھوں نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ نہیں پتہ تھا چینی دو کلو فی کس کے حساب سے دینی ہے؟ سونیا صدف نے ان کے سوال پر جواب دیا کہ مجھے یہی ہدایات ملی تھیں جن پر عمل کیا جا رہا ہے۔

یہ وہ الفاظ تھے جن پر فردوس عاشق برہم ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ غلط ہدایات آپ کو کس نے دیں، ایک کلو چینی دینا ہماری پالیسی ہے ہی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں