’’اے سی کی تضحیک پر معافی مانگی جائے‘‘

اسلام آباد ( پبلک نیوز )سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم خوش خوش واپس گھر چلے گئے ٗوزیراعظم نے کہا مہنگائی کی نگرانی خود کروں گا وہ گیارہ فیصد سے اوپر چلی گئی ٗمہربانی کر کے آپ خود کسی چیز کی نگرانی نہ کیا کریں ٗایک خاتون افسر کیساتھ جو کیا گیا اس پر معافی ہی مانگ لیں ٗیہ لوگ آپ کے ذاتی ملازم نہیں ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفتاح اسماعیل نے ووٹوں کی نگرانی کیلئے فوج کا لفظ ٹھیک استعمال نہیں کیا ٗفوج کی جگہ رینجرز کا لفظ استعمال کرنا چائیے تھا ، یہ معاملہ فوج کا نہیں ، ملک کا ہے ٗہم اس کی بات کر رہے ہیں جب حکومت کے لوگ جا کر بے عزتی کرتے ہیں، جب کوئی سول سرونٹ قانون توڑے گا اس کو وارننگ دینا ہمارا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی بات کرتے ہیں وہ کیمرے عدالتوں میں لگائیں ٗعوام کو بتائیں کہ اس احتساب کے کیا حقائق ہیں ٗکورونا کی وجہ سے پھر لاک ڈاؤن کا خطرہ ہے ٗیہ وہ ملک ہے جو ایک ویکسین تک نہیں خرید سکا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ این سی اوسی والے ماسک پہن کر انہماک سے بیٹھے ہوتے ہیں ٗکیا این سی اوسی عوام کو ماسک پہنا سکی ہے ٗکہا گیا کہ اب فوج عوام کو ماسک پہنائے گی، پہلے ٹائیگر فورس تھی ٗمہربانی کر کے دس کروڑ ویکسین کا آرڈر دیں لمبی میٹنگز سے کچھ نہیں ہو گا ٗہمارے وزیراعطم شہر کے دورے پر نکلے جہاں قیمتیں کم تھیں ، چیزیں بھی موجود تھیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آٹا ہم خود پیدا کرتے ہیں اس کی قیمت دگنی کیسے ہو گئی ؟وزیراعظم اس پر ہی کوئی کمیشن بنا دیں ٗچینی کی قیمت کم کرنے کیلئے آپ نے کیا اقدامات کئے ٗہمیں بتایا گیا کہ ترین صاحب پر کیس بنا دیا گیا ٗاب تفتیشی کو تبدیل کر دیا گیا ، ایف آئی اے نے عدالت میں کہہ دیا ہم سے ان کا نام ڈال کر غلطی ہو گئی۔

سابق وزیر ا عظم نے کہا کہ پچھلی بار آر ٹی ایس پر کام ڈال گیا الیکشن وہیں سے چوری ہوا ٗاس ملک کو صرف ایک انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے اس کا نام آئین ہے ٗآئین کے تحت ملک کو چلائیں ٗالیکٹرانک ووٹنگ مشین کسی چیز کا حل نہیں مزید ابہام پیدا کرے گا ٗجو ملک کاغذی نظام نہ چلا سکے وہ الیکٹرانک بھی نہیں چلا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں