کتوں کو کاٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا ٗ سیکرٹری بلدیات

کراچی ( پبلک نیوز ) سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ سندھ میؒں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر فوری طور پر کنٹرول کیا جائے جبکہ سیکٹری بلدیات کا کہنا ہے کہ کتوں کو کاٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

سندھ ہائیکورٹ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے اور بلدیہ کی طرف سے کنٹرول نہ کر پانے کے کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ٗ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی سے وضاحت طلب کرلی ٗعدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری بلدیات کتوں کے کاٹنے کے واقعات روکنے کیلئے اقدامات کریں ٗ اور ذاتی حیثیت میں معاملہ دیکھیں ٗ عدالت نے سماعت 2 جون کے لیے ملتوی کردی

سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ کتوں کو کاٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا، کتا کاٹے گا مگر ہمارے محکمے کو کام کرنا ہوگا، کتا کاٹنے پر 1600 ملازمین ہیں، سب فارغ ہو جائیں گے، ایسے تو سارے افسران گھر چلے جائیں گے، میں عدالت کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں، مگر عدالت بتائے، پیش رفت سے کیا مراد ہے،

جسٹس امجد علی سہتو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کبھی سنا ہے ڈی ایم سیز میں 350 ملازمین ؟ ان سے پوچھیں، فنڈز کیسے کھانے ہیں تو فوری مشورہ دیں گے،فنڈز کھانا آتے ہیں کتا پکڑا اور مارا نہیں جاتا، گاوں میں کتا کاٹنے تو کہیں ڈاکٹر نہیں کہیں ویکیسن نہیں، کسی گاوں میں کتا کاٹے تو حیدر آباد تک پہنچتے پہنچتے بچہ مر جاتا ہے، ڈی ایم سیز میں 350 ملازمین ہیں کیا کرتے ہیں؟ اہلیت اور کام نہ کرنے کا مسلہ ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں