’زبانی باتوں پر ریکارڈ میں تبدیلی ممکن نہیں‘

اسلام آباد(پبلک نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکے جانے کی خبروں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ بلیک لسٹ میں نام ڈالنا یا نکالنا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا اختیار ہے. 

ایک ٹویٹ میں وزیر اطلاعات نے کہا شہباز شریف کے وکلاء کی طرف سے عدالتی فیصلے کی بلیک لسٹ سے نام نکلوانے کی ابھی تک کوئی درخواست ڈی جی ایف آئی اے کو نہیں دی گئی،  صرف زبانی باتوں پر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، حکومت اس فیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

اس سے قبل امیگریشن حکام نے اپوزیشن لیڈر اور (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف کو لاہور ائیرپورٹ پر روک لیا ایف آئی اے حکام نے ان سے کہا کہ سسٹم میں آپ ابھی تک بلیک لسٹ ہیں، بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد ایف آئی حکام نے اپوزیشن لیڈر کو آف لوڈ کر دیا۔ حکام سے تحریری وجہ مانگنے پر انہیں آف لوڈ فارم دیا گیا جس میں بتایا گیا ہےکہ شہبازشریف کے حوالے سے سسٹم ابھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا ہے۔ بیرون ملک روانگی کی اجازت نہ ملنے پر شہباز شریف واپس گھر چلے گئے۔
ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے معاملے پر کہا کہ سسٹم اپ ڈیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر شہباز شریف کو روکے جانا بدنیتی ہے، ایف آئی اے عمران خان کے حکم پر توہین عدالت کر رہی ہے، کہا ان چھوٹی حرکتوں سے شہباز شریف کو فرق نہیں پڑے گا۔

عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کا نام ڈیڑھ گھنٹے میں ای سی ایل سے نکل سکتا ہے، شہبازشریف کا نام تو ای سی ایل میں تھا ہی نہیں، کہا نیب نیازی گٹھ جوڑ کا پل شہزاد اکبر ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 8 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں