کیا فلسطین کے جارج فلائیڈ کو انصاف مل پائے گا ؟

یروشلم: (پبلک نیوز) گزشتہ روز اسرائیلی فورسز کی جانب سے بربریت کی انتہاء کر دی گئی۔ بیت المقدس کے احاطے میں جمعے کے روز نمازیوں پر اسرائیلی پولیس کی فائرنگ اور اس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں 180 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین یوم القدس کے موقع پر عبادات کرنے کے لیے آئے تھے۔

غاصب اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسجد اقصی میں نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور زبردستی نمازیوں کو عبادت کی ادائیگی سے روکا گیا، مسجد میں شیلنگ اور لاٹھی چارج کی ویڈیوز بھی سامنے آگئی ہیں ، دنیا بھر میں مسلمانوں کی طرف سے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا صارفین ایک تصویر کے سامنے آنے پر مذمت کر رہے جس میں اسرائیلی پولیس اہلکار نے جارج فلائیڈ کی طرح فلسطینی نوجوان کی گردن پر گھٹنا رکھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ امریکا یا کسی اور ترقی یافتہ ملک میں ہوا ہوتا تو دنیا بھر میں اس کی مذمت کی جاتا اور انسانی حقوق کی تنطیمیں اس پر ردعمل دیتی تاہم فلسطین میں تشدد کے واقعات پر ردعمل سامنے نہیں آتا ۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے دعوی کردہ زمین سے فلسطینیوں کے زبردستی انخلا کی وجہ تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ ہلال احمر نے زخمیوں کے علاج کے لئے ایک فیلڈ ہسپتال کھولا ہے۔ فلسطین کی ہلال احمر کی ایمرجنسی سروس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 88 فلسطینیوں کو ربڑ کی گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے معاملے پر کہا کہ واشنگٹن “بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش میں مبتلا ہے”۔

اقوام متحدہ کے مشرق وسطی میں امن عمل کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹور وینس لینڈ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ “امن و استحکام کو قائم رکھنے کے لیے یروشلم کے پرانے شہر میں موجود مقدس مقامات کا احترام کریں۔” اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی قسم کی بے دخلی ختم کرنی چاہئے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو روکنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں