28 سالوں میں عمران خان کے اخراجات سب سے زیادہ

کراچی ( پبلک نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قرضوں کے سود کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد ترقیاتی بجٹ تو درکنار دفاعی بجٹ کے لئے بھی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوں گے ٗعوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے عمران خان کی حکومت کے شاہانہ اخراجات 28 سالہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوچکے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقیدکرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان نے 25 سال اس لئے جدوجہد کی کہ ہر پاکستانی کو پونے دولاکھ روپے کے حکومتی قرضے کے بوجھ تلے دباسکیں، قرضوں کے خلاف جھوٹی مہم چلا کر پی ٹی آئی حکومت اب تک 33 ارب ڈالر سے زائد کا غیرملکی قرضہ لے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو معاشی ٹیم کا لالی پاپ دینے والے عمران خان کی حکومت سخت شرائط پر قرضے لے کر اپنی آمدنی سے 10 کھرب روپے زیادہ خرچ کرچکی ہے، نرخوں میں سینکڑوں فیصد اضافے کے بعد بھی صرف بجلی کے شعبے میں ڈھائی کھرب اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 350 ارب روپوں سے زیادہ ہوچکا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کبھی قرضہ نہ لینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت کے نو ماہ میں ڈھائی کھرب روپوں پر مشتمل ملکی خزانے کا 82 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوچکا ہے، پی ٹی آئی حکومت کی حالت یہ ہے کہ عوام اور تاجروں کے ٹیکسوں کے 710 ارب روپے واپس نہ کرکے ایک نیا گردشی قرضہ پیدا کرچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب 650 ارب روپے کےترقیاتی پروگرام میں سے حکومت مالی سال کے 11ویں ماہ میں بھی صرف 40 فیصد خرچ کرے گی تو معاشی ترقی کے اہداف کیسے پورے ہوں گے؟ روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ پر واہ واہ سمیٹنے والے عمران خان کیوں نہیں بتاتے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں سے سات فیصد سود پر ایک ارب ڈالر سے زائدلے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں