مانسہرہ سے پہلی خاتون پولیس آفیسر بننے والی زینب خالد کی کہانی

مانسہرہ ( پبلک نیوز) خیبر پختونخواہ سے سی ایس ایس کے امتحانات میں خواتین میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی زینب خالد نے کہا ہے کہ سی ایس ایس کرنے کا مقصد یہ تھا کہ میں روایتی سوچ کو ختم کروں ٗ میں نے پرائمری تک تعلیم گڑھی حبیب اللہ کے مقامی سکول سے حاصل کی اور میٹرک میں ایبٹ آباد بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ سے سی ایس ایس کے امتحان میں خواتین میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے اور اپنے ضلع سے پہلی خاتون پی ایس پی آفیسر بننے والی زینب خالد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے والدین نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیا ٗ اس کی دعائیں اور کوشش سے آج سے اس مقام پر ہیں ٗ ایک روایتی پشتون خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود مجھے یونیورسٹی اور ہوسٹل میں داخلہ لینے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں خواتین کا تھانوں میں جانا معیوب سمجھا جاتا ہے ٗ میں نے اسی لئے پولیس سروس میں جانے کا فیصلہ کیا تاکہ خواتین کو اگر تھانے میں آنا پڑے تو انہیں بہتر نمائندگی مل سکے ٗ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے ٗ میرے والد بینکنگ کے شعبہ سے منسلک جبکہ میری والدہ ایک گھریلو خاتون ہیں ٗ ہمارا پورا علاقہ میری کامیابی پر خوش ہے کہ میں اپنے علاقے سے پہلی پولیس آفیسر بننے جا رہی ہوں۔

زینب خالد نے کہا کہ جب میرے والدین نے مجھے تعلیم جاری ر کھنے کی اجازت دی تو انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور خاندان اور معاشرے کے لوگوں نے ایک لڑکی کے تعلیم حاصل کرنے پر تنقید کی مگر میرے والدین نے اس کی ذرا برابر بھی پرواہ نہ کی ٗ جب بھی میرے والدین کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تو میں امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے ناقدین کے منہ بند کردیا کرتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں