شیخ جراح پر قبضہ کی اسرائیلی خواہش ٗ تاریخی حقائق جانئے

یروشلم(ویب ڈیسک) مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کی گلیوں میں دو ہفتوں سے فلسطینیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان لگاتار کشیدگی جاری ہے جس کا پس منظر یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ ہے جو ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کی وجہ سے فلسطینیوں کو اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہے۔

کئی روز سے اس علاقے کے رہائشیوں کی جانب سے فلسطینی باشندوں کے گھر خالی کرنے کے احکامات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔یروشلم میں اسرائیلی سپریم کورٹ میں فلسطینی خاندانوں کے وکلا اور یہودی آباد کاروں کی ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مقدمے کی سماعت میں فلسطینیوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان گھروں میں 1950 کی دہائی سے رہ رہے ہیں، جبکہ یہودی آباد کار یہ دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے یہودیوں کی دو انجمنوں سے یہ زمینیں قانونی طور پر خریدی ہیں۔

کہانی کیا ہے؟

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق شیخ جراح محلہ قدیمی یروشلم کی دیواروں کے بالکل باہر واقع ہے ۔اس علاقے میں ہوٹلوں، ریستوراں اور قونصل خانے کے علاوہ فلسطینیوں کے بہت سے مکانات اور رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ مشرقی یروشلم 1967ء میں اسرائیل کے قبضہ کرنے سے قبل اردن کے ساتھ ملحق تھا اور اس کو عالمی برادری کے ذریعہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہودی آباد کاروں نے عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر محلے کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہاں رہنے والے یہودی خاندان 1948 کی جنگ کے دوران فرار ہو گئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اردن نے 1948 میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی رہائش کے لیے شیخ جراح کے پڑوس میں رہائش گاہ بنائی تھی اور لیز کے معاہدے اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔

اردن کی وزارت برائے امور خارجہ کے ذریعے شائع شدہ دستاویزات کے مطابق یہ دستاویزات ان 28 خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں جو شیخ جراح کے پڑوس میں 1948 کی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔ رہائشیوں کی مشکلات 1972 میں اس وقت شروع ہوئیں جب سیفارڈک یہودیوں کی کمیٹی اور اسرائیل کی کنیسیٹ کمیٹی نے دعوی کیا تھا کہ وہ اس علاقے کے مالک ہیں جس پر 1885 میں مکانات بنائے گئے تھے۔

1970 میں اسرائیل میں قانونی اور انتظامی امور کا قانون نافذ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 1948 میں مشرقی یروشلم میں اپنی جائیداد کھو جانے والے یہودی اس کی بازیابی کروا سکتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مشرقی یروشلم میں 200،000 سے زیادہ یہودی آباد کار آباد ہیں جبکہ فلسطینیوں کی آبادی 300،000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

یروشلم شہر کے مشرقی حصے، جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 میں ہونے والی ’چھ روزہ جنگ‘ میں قبضہ کیا تھا، کے پڑوس میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر ایسے نعرے لگائے ’اردن واپس جاؤ‘ جس کا فلسطینیوں نے ان نعروں کے ساتھ جواب دیا: ’نسل پرست‘ اور ’مافیا‘۔ پچھلے ہفتے کے دوران اس علاقے میں تعینات پولیس نے فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کیا اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور مائع گیس کا استعمال کیا۔

تنازع کا مرکز

یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس یروشلم کی حیثیت، اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کا مرکز ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم ان کی آئندہ ریاست کا دارالحکومت بن جائے اور بیشتر ممالک اور اوراقوام متحدہ کی قراردادیں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی گردانتی ہیں۔ اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ انخلا کے خطرے سے دوچار فلسطینیوں میں سے بہت سے کرد مہاجر ہیں، یا ان کے آباؤ اجداد نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے پہلے اس علاقے میں آئے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کردوں کے معاملے میں، یہودی آباد کاروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ زمین دو یہودی انجمنوں سے خریدی ہے۔

اسرائیلی تشدد میں تیزی

دوسری جانب مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر بہیمانہ تشدد کے بعد اب اسرائیل کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں ٗ عالمی برادری کی پراسرار خاموشی اور امت مسلمہ کی بے حسی کے بعد صہیونی ظلم کو مزید شہ ملی ہے ٗ غزہ میں اسرائیلی فوج نے بلااشتعال بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کمسن بچوں سمیت 20 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ۔

اسرائیلی افواج کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے اس آپریشن میں حماس کے کمانڈر محمد عبداللہ فیاض بھی شہید ہوگئے ہیں ٗ فلسطین کی صورتحال پر گزشتہ روز اقوام متحدہ نے اسرائیل کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے اپنے مظالم میں مزید تیزی کردی ٗ اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ اقوام متحدہ کا اجلاس جاری ہے لیکن تاحال ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا جا سکا۔ امریکہ کی طرف سے فلسطینیوں پر تشدد کیخلاف ایک مذمتی بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدیوں سے مقیم فلسطین کے رہائشیوں کو شیخ جراح سے نہیں نکالا جانا چاہیے ٗ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ٗ نمازیوں کی شہادت پر او آئی سی کا اجلاس بھی بلا لیا گیا ہے۔

یروشلم تصادم کا گڑھ کیوں ہے؟

اس شہر میں کئی مذہبی مقامات ہیں، یہ کئی مذاہب کے لیے ایک مقدس ترین مقام ہے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تنازع میں سب سے زیادہ حساس علاقہ ہے۔ اس کی مذہبی اہمیت کے علاوہ اس پر ایک قومی تنازعہ بھی موجود ہے ۔اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو الحاق کر لیا ہے اور متحدہ شہر کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے، حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ شہر کا مشرقی حصہ ان کی آئندہ ریاست کا دارالحکومت بنے۔

مشرقی یروشلم پر اسرائیلی حاکمیت بین لاقوامی طور پر متنازع ہے۔ 1967 میں چھ روزہ جنگ کے اختتام پر اسرائیل نے فلسطین کے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم، غزہ پٹی اور گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق نیتن یاھو نے خود یروشلم میں ہونے والے واقعات پر اپنے ایک تبصرے میں کہا تھا کہ “اسرائیل قانون کے نفاذ کے لئے ذمہ داری سے کام کر رہا ہے۔” اور ٹویٹر کے ذریعہ اسرائیل کے وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈیلمین نے نیتن یاہو کے حوالے سے کہا ، “اسرائیل ملک میں قانون کو نافذ کرنے اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لئے ذمہ داری سے کام کر رہا ہے۔ ” مبصرین نے اشارہ کیا ہے کہ نیتن یاہو نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے تحت فلسطینی اتھارٹی اور وہائٹہ اؤس کے مابین ممکنہ تعصب کے اندیشے کی وجہ سے زمین پر نئے قواعد کے نفاذ کو تیز کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، اور یروشلم میں صورتحال کو بھڑکانے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ اس قبضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی تک پھیل جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں