’’جہانگیر ترین سمیت کسی سے بے انصافی نہیں ہو گی‘‘

اسلام آباد ( پبلک نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین نے مجھے کہا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ٗ میں تو دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرتا ہوں تو اپنی پارٹی کے رہنما کیساتھ کیسے بے انصافی ہو سکتی ہے ٗ لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ چینی چوروں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ٗ چاہے میری حکومت چلی جائے ٗ ملک کے کئی سیاستدانوں کی شوگر ملیں ہیں ۔

آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ کے تحت عوام کیساتھ ٹیلی فون کالز پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ نے پاکستان میں کورونا کی پہلی دو لہروں کے موقع پر کرم کیا ٗ قوم نے بھی ایس او پیز پر عمل کیا ٗ ہم وہ خوش قسمت قوم ہیں جہاں پر بائیس کروڑ کی بڑی آبادی کے باوجود اس صورتحال سے اچھی طرح نکل گئے ٗ ہندوستان میں 22 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جتنی ہماری ساری آبادی ہے اتنے لوگ غریب ہوئے ۔ اللہ کے کرم سے ہم نے اپنی قوم کو بچا لیا ٗ اب اسی تیسری لہر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انڈیا ٗ بنگلہ دیش ٗ نیپال ٗ ایران میں کیا حالات ہیں ۔اس کے مقابلے میں اللہ نے ہمیں ابھی بھی بچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ عید کی چھٹیوں کے موقع پر خاص خیال رکھیں ٗ جتنی آپ احتیاط کریں گے اتنا ہی اس عذاب سے نکل جائیں گے ٗ اگر آپ نے احتیاط نہ کی تو صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے ٗ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ انڈیا کے حالات دیکھ کر ٗ ہمارے کیسز اب رک گئے ہیں ٗ نیچے نہیں آرہے لیکن اب بڑھ بھی نہیں رہے ٗ میں پوری قوم کو تاکید کرتا ہوں کہ کورونا ایس او پیز پر لازمی عمل کرے ٗ ماسک لازمی پہنیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امیزون کی لسٹ میں پاکستان شامل ہونا بہت بڑی کامیاب ہے ٗ یہ ابھی شروعات ہے ٗ اس میں پاکستانیوں کو جو مشکلات ہیں ہم وہ بھی حل کریں ٗ کورونا ایس او پیز کے حوالے سے جب آپ خریداری کا وقت کم کرتے ہیں تو لوگ زیادہ ہو جاتے ہیں ٗ اس پر ہماری بہت بحث ہوئی ٗ وہاں ماہرین روز اسی بات پر گفتگو کرتے ہیں ٗ اس بات پر بھی سوچ لیں گے ٗ ابھی اس وقت عید کی چھٹیوں پر احتیاط بہت ضروری ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف نےسپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا ٗ میں قانون کی بالادستی چاہتا ہوں ٗ میں قانون کی حکمرا نی کیلئے کوشش کر رہا ہوں ٗ پہلی بار قانون کی بالادستی کی جنگ اس وقت ہوئی جب مشرف نے چیف جسٹس کو نکالا ٗ خود کو بڑے لیڈر کہنے والے ملک سے بھاگ گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں