ترکی کا اسرائیلی جارحیت پر بڑا قدم

انقرہ (پبلک نیوز) ترکی کا اسرائیل جارحیت پر شدید ردعمل، جون میں ہونے والی توانائی کانفرنس کے لیے اسرائیلی وزیر کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا۔

ترک صدر نے مسلم ممالک کے سربراہان کے نام اپنے پیغام میں کہا اب مظلوم فلسطینیوں کا عملی طور پر ساتھ دیا جائے، انقرہ اور استنبول میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا، ادھر عرب لیگ کی جانب سے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عید سے قبل فلسطینیوں پر اسرائیل نے قیامت ڈھا دی ہے، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے 36 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے، اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والوں میں دس بچے بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سفاک اسرائیل کے 80 جنگی طیاروں نے غزہ پر بم برسائے، فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ ۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت کے بعد حماس نے اسرائیل پر راکٹ حملے کرنے کی دھمکی دی تھی ، پیر کو حماس نے یروشلم پر راکٹ حملے کردیے جس میں 3 اسرائیلی باشندے ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس نے برسوں میں پہلی مرتبہ یروشلم پر راکٹ فائر کر کے ’اپنی حد پار کی ہے۔‘ اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حماس نے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘ واضح رہے کہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ اور اس کا قریبی علاقہ رمضان کے مہینے میں پرتشدد جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سنہ 2017 کے بعد سے بدترین تشدد دیکھا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق یہاں گذشتہ چند دنوں کے دوران 700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں