غزہ پر پابندیاں ٗ مسائل ٗ جبر اور جغرافیہ ۔تمام تفصیلات جانئے !

غزہ ( ویب ڈیسک ) اسرائیل نے غزہ کو ایک ایک ایسی جیل بنا رکھا ہے ٗ جہاں پر ایک چھوٹے سے علاقے میں بیس لاکھ سے زائد لوگ ٹھنسے ہوئے ہیں ۔ فلسطینیوں پر زمینی ٗ سمندری اور فضائی راستے بند ہیں ٗ اسرائیل کی طرف سے غزہ کے رہنے والوں کو بجلی ٗ پانی ٗ خوراک ٗ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ دیا جاتا ہے جبکہ غزہ کے سات میں سے چھ زمینی راستوں پر اسرائیل قابض ہے۔

پبلک نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطا بق غزہ کی سرحد مصر کے ساتھ 11کلو میٹر جبکہ اسرائیل کے ساتھ 51کلو میٹر طویل ہے ٗ غزہ کا انتظام فلسطینی حکومت سنبھالتی ہے ٗ غزہ کی پٹی کا رقبہ 365کلو میٹر ہے جبکہ اس کی آبادی 20لاکھ تک پہنچ چکی ہے ٗ اس انسانی المبے کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ غزہ کی پٹی ایک پنجرے میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں انسانوں کا کثیر انبوہ ہے۔

اسرائیل نے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے ٗ غزہ اس وقت دنیا کے کم رقبے میں زیادہ آبادی والا تیسرا سب سے بڑا مقام بن چکا ہے ٗ جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق 2020 سے غزہ انسانوں کے رہنے کے لئے مناسب جگہ ہی نہیں رہی ۔

مصر اور اسرائیل نے غزہ پر اپنی سرحد بند کر رکھی ہے ٗ اسرائیلی سمندر کا راستہ بند ہے ٗ اسرائیلی فضا سے غزہ کے رہنے والے سفر نہیں کر سکتے ٗ نہ انہیں غزہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور غزہ میں داخل ہونے کی ۔ انہیں تجارت کرنے کی اجازت نہیں یعنی درحقیقت غزہ کا اندرونی کنٹرول اسرائیل چھوڑ چکا ہے لیکن تمام گزر گاہوں پر قابض ہے ٗ غزہ کے فضائی اور سمندری راستوں پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں