بیگم نسیم ولی خان کی رنج و الم سے بھرپور داستان حیات

چارسدہ ( پبلک نیوز ) پاکستان کے سیاسی حلقوں میں آئرن لیڈی کے نام سے جانی جانے والی بیگم نسیم ولی خان دار فانی سے کوچ کر گئیں مگر ان کی داستان حیات پاکستان کی خواتین کیلئے ایک مشعل راہ ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے خیبر پختونخواہ سے پہلی رکن صوبائی اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور شاید وہ اس علاقے میں تاریخ کی پہلی سیاستدان بھی تھیں۔

پبلک نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بیگم نسیم ولی خان مردان کے علاقے ’’ہوتی‘‘ میں 1933 میں پیدا ہوئیں ٗ ان کی ابتدائی تعلیم مردان میں ہوئی ٗ بیگم نسیم ولی کے والد امیر محمد خان باچا خان کے ساتھی تھے انہوں نے انگریزوں کیخلاف جدوجہد کی ٗ مگر جب پاکستان آزاد ہوا تو بیگم نسیم کے والد جون 1948 میں قید ہوئے ٗ اور 1954 تک جیل میں رہے۔

بیگم نسیم کا بچپن ا انتہائی مشکلات میں گزرا کیوں ان کے والد کی ساری جائیداد ضبط کرلی گئی ٗ یہ چھ سال بیگم نسیم کے خاندان پر بہت سخت گزرے اور اس مشکل وقت میں ان کی والدہ نے بہت ہمت حوصلے سے خاندان کو جوڑے رکھا ٗ بیگم نسیم پانچ بہنیں اور ایک بھائی تھے ٗ ان کے بھائی اعظم خان ہوتی پاکستان کے مایہ ناز سیاستدان تھے جن کا انتقال 2015 میں ہوا ۔

بیگم نسیم ولی کا تعلق روایت پرست پشتون گھرانے سے تھا ٗ جہاں پر پردے کی شدید پابندی کی وجہ سے بیگم نسیم ولی سکول کی پڑھائی کے بعد تعلیمی سلسلے کو جاری نہ رکھ سکیں ٗ لیکن ان کا تعلیمی سفر شادی کے بعد دوبارہ شروع ہوا جب انہوں نے 1962ایف ایس سی ہوم اکنامکس کالج سے کیا ٗ مگر بچے بڑے ہونے کی وجہ سے وہ ایف ایس سی کرنے کے بعد دوبارہ آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔

بیگم نسیم ولی سیاسی گھرانے میں پلی بڑھی ٗ والد کی قید و صعوبت دیکھی ٗ سیاسی گھرانے میں ہی ان کی شادی ہوئی ٗ جب بیگم نسیم ولی خان کی شادی پاکستان کے ممتاز سیاستدان ولی خان سے ہوئی تو اس وقت اسفند یار ولی پانچ سال کے تھے ٗ وہ ولی خان کی دوسری بیوی تھیں ۔

بیگم نسیم ولی خان کو پاکستانی سیاست میں آئرن لیڈی کے نام سے پکارا جاتا ہے ٗ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں باچا خان کو قید کر لیا گیا ٗ ولی خان کو نظر بند کر دیا گیا جبکہ اسفندر یار ولی کو 19 سال قید کی سزا سنا دی گئی ٗ ان کے بھائی اعظم خان ہوتی پر پاکستان میں دہشت گردی کے 85 مقدمے بنے جس کی بنا پر انہیں پاکستان سے فرار ہونا پڑا ٗ اس موقع پربیگم نسیم ولی نے سیاست کے میدان کارزار میں قدم رکھا ۔

اے این پی خیبر پختونخواہ میں برسراقتدار آئی تو وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے اوپر کرپشن کے سنگین الزامات لگے تو بیگم نسیم ولی خان نے اس کیخلاف آواز بلند کی جس پر اسفندیار ولی خان نے ایک بیان میں کہا کہ’’ بیگم نسیم ولی خان میری ماں نہیں ہیں اور میں ان کا بیٹا نہیں ہوں ٗ وہ صرف میرے باپ کی بیوی ہے ‘‘۔بیگم نسیم ولی کو ان کے سگے بھائی اعظم خان ہوتی اور سوتیلے بیٹے اسفندیار ولی نے 2003 میں پارٹی سے نکال دیا اور بیگم نسیم ولی خان یہ دکھ تاعمر نہ بھول سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں