ہم چاہتےہیں انٹرنیٹ پلیٹ فارم پاکستان سمیت دنیا بھر کی عوام کو ملنے چاہیئے،امریکا

09:28 AM, 21 Feb, 2024

ویب ڈیسک:  امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ ہم دنیا میں انٹرنیٹ کی ہمیشہ مکمل آزادی چاہتے ہیں، اور اس میں ایسے پلیٹ فارمز کا ہونا بھی شامل ہے جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس کی سروسز میں خلل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم انٹرنیٹ پلیٹ فارم چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں انٹرنیٹ پلیٹ فارم پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں کے لیے دستیاب ہوں۔ اور میرے پاس اس سے کے علاوہ کہنے کو کچھ نہیں۔‘

ایک سینیئر پاکستانی عہدیدار کی جانب سے الیکشن کے دوران دھاندلی میں مدد کرنے کے اعتراف پر امریکی ترجمان کا ردعمل جاننے کے لیے کیے گئے سوال کے جواب میں میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ رپورٹ دیکھی ہے۔ مداخلت یا دھاندلی کے ہر دعوے کی مکمل اور شفاف تحقیقات پاکستان کے اپنے قوانین اور طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔‘

ایک صحافی نے جب ترجمان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت پی ٹی آئی امیدواروں کے مینڈیٹ کا احترام کرے؟ تو ان کا کہنا تھا، ’میں پاکستان کے کسی اندرونی معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا، یقیناً نئی حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے میں پاکستان پر چھوڑتا ہوں۔

’جیسا کہ میں نے کہا، جب مداخلت کے کسی بھی دعوے یا دھاندلی کے الزامات کی بات آتی ہے، تو ہم چاہتے ہیں کہ ان کی مکمل تحقیقات ہوں۔‘

الیکشن کے دو دن بعد پاکستان میں امریکی سفیر کی سابق وزیر خارجہ سے ملاقات کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے میتیوملر نے کہا، ’میں نجی سفارتی مصروفیات کے متعلق بات نہیں کروں گا، لیکن ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم کسی بھی بے ضابطگی یا دعویٰ کردہ بے ضابطگیوں کے کسی بھی دعوے کی مکمل تحقیقات چاہتے ہیں۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد گذشتہ کئی روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔

پاکستان میں سنیچر کی رات سے متاثر ہونے والی سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی سروس بدھ کو بھی بحال نہ ہو سکی۔

ٹوئٹر انکارپوریشن کا جمعے کی رات کو کہنا تھا کہ ہزاروں صارفین کی جانب سے شکایات کی اطلاع کے بعد مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی سے منگل کو پارلیمنٹ کے باہر جب صحافیوں نے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایکس کو کس نے ایکس کیا؟ بہتر ہو گا کہ آپ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چیئرمین پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔‘

مزیدخبریں