”کاشتکار کی پیداوار کا 40 فیصد مڈل مین کھا جاتا ہے“

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ معیشت میں استحکام کے لیے زراعت کے شعبے میں چیلنجز درپیش ہیں۔ کسانوں کو سود سے پاک قرضے دیکر زرعی پیداوار کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ مڈل مین کا کردار ختم ہونے سے کاشتکار کو اپنی پیداوار کا 35 سے 40 فیصد زائد مل سکتا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین سے معاون خصوصی فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر معاون خصوصی ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری فوڈ سکیورٹی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں فارم گیٹ پرائسنگ کے امور اور درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پھل اور سبزیوں سمیت جلد خراب ہونے والی اشیاء اور مڈل مین کے کردار پر بھی بات چیت کی گئی۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معیشت میں استحکام کیلئے زراعت کے شعبے میں چیلنجز درپیش ہیں۔ کسانوں کو سود سے پاک قرضے دیکر زرعی پیداوار کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ مڈل مین کا کردار ختم ہونے سے کاشتکار کو اپنی پیداوار کا 35 سے 40 فیصد زائد مل سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کاشتکاروں کو ویئر ہائوسز اور کولڈ سٹوریج کی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں