18

”سٹیل مل کی نجکاری اگست تک مکمل ہوجائے گی”

اسلام آباد: ( پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں پاکستان سٹیل مل کی نجکاری سے متعلق کیس کی سماعت، وفاقی وزراء شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوسکے۔ عدالت نے وزیر نجکاری اور وزیر منصوبہ بندی کو 9 فروری کو طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان سٹیل مل کی نجکاری کے حوالے سے درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر ادارے کا حال سٹیل مل جیسا ہے۔ ریلوے، پی آئی اے سمیت ہر ادارے میں حالات ایسے ہی ہیں۔ سب افسران اپنی ذاتی سروس کر رہے ملک کی کسی کو فکر نہیں، بند اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں دے کر ہی ملک دیوالیہ ہوا۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ سٹیل مل کی نجکاری اگست تک مکمل ہوجائے گی، سٹیل مل ملازمین نے سی ای او کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ سی ای او کے دروازے پر خواتین کو بٹھا دیا گیا ہے۔ ملازمین نے سی ای او کے گھر کے باہر ان کی قبر بھی کھودی ہوئی ہے۔ جواب پر درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ قبر علاماتی طور پر کھودی گئی ہے، سٹیل مل کے 302 مقدمات میں سندھ ہائی کورٹ نے سٹے آرڈر دیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سٹیل مل کے وکلاء کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس بات کی فیس لیتے ہیں؟۔ مقدمات سے کیسے نمٹنا ہے سٹیل مل کو بتائیں۔ سٹیل مل کو ریسکیو کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔ سٹیل مل تباہ کرنے والوں میں ملازمین بھی شامل ہیں، پی آئی ڈی سی ملازمین بھی دس سال بند فیکٹری سے تنخواہ لیتے رہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی ڈی سی کی تمام فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں، جو بھی سٹیل مل لے گا کھوکھلا کرکے بند ہی کرے گا۔ 9 فروری کو وفاقی وزراء کو سن کر فیصلہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں