’’ایشیاء کو اندرونی یا بیرونی تناؤ کا تھیٹر نہیں بننا چاہیے‘‘

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے جاپان میں ہونے والی فیوچرآف ایشیا کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں کہا کہ مجھے ایشیاء کے مستقبل بارے 26 ویں کانفرنس میں بات کرنے کرکے خوشی ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا ایشیا میں دنیا کی نصف آبادی ہے۔اس براعظم کا مستقبل دنیا کے مستقبل سے جڑاہے۔ 50 سال میں انتہائی متحرک معاشی،تینیکی وانسانی ترقی ہوئی، آج ایشیا ور دنیا اہم موڑ پر ہیں۔ یہیں سے 21 ویں صدی میں تاریخ کے نصاب کا فیصلہ ہو گا، ہم سخت چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا ہمارے پاس ترقی اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے مواقع بھی موجود ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح کوویڈ 19 کا مقابلہ کرنا اور اسے فتح کرنا ہے، اس جان لیوا وائرس نے صحت کے مسائل سمیت بدترین عالمی حالات پیدا کر دیئے، متحرک ترقی کو یقینی بنانے کے لئے معیشت میں تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متحرک نمو کو یقینی بنانے کے لئے معیشت کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں87 فیصد لوگ آن لائن ہیں اور غریب ترین ممالک میں صرف 19فیصد انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں، اعلی درجے کی معیشتوں کے مابین ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنا ضروری ہے، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی معشیوں کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں مزید وسیع ہوجائیں گی، ڈیجیٹل ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر میں توسیع کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی، لچکدار اور متحرک معاشی نمو کا زیادہ انضمام اور رابطے پر نمایاں انحصار ہوتا ہے، چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ایشیامیں علاقائی انضمام کو اہم راستہ فراہم کرتا ہے۔ ہم ایشیاء اور دیگر مقامات پر “معیاری” بنیادی ڈھانچے کی حمایت کرتے ہیں،مالی اعانت کے لئے جاپان اور دیگر کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا پاکستان نے تمام دوست ممالک کو متعدد معاشی اور صنعتی زونوں میں سرمایہ کاری میں حصہ لینے کی دعوت دیدی، پاکستان وسط ایشیا ، جنوبی ایشیاء ، مغربی ایشیاء اور اس سے آگے کی معیشت کو انجام دینے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ یہ ذیلی خطے وہ علاقے ہیں جو ایشیاء میں متحرک نئی ترقی کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستان نے افغانستان میں امن عمل کی فعال حمایت کی ہے، غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہورہا ہے، افغان فریقین کے مابین امن عمل کو فروغ دینے کی کوششوں کو دوگنا کر دیں۔ تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ تشدد میں تیزی سے کمی واقع ہو گی ، افغان جماعتیں جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کو محفوظ بنانے کے لئے تعمیری کوششیں کریں گی۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن ، باہمی تعاون کے خواہاں ہے، بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنا اور 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ امید ہے ایشیاء میں امن و سلامتی کو لاحق دیگر خطرات بھی حل ہوجائیں گے۔ فلسطین کی صورتحال ہر ایک کے لئے گہری تشویش کا باعث ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دو ریاستی وژن کے مطابق ایک منصفانہ حل کی سہولت فراہم کرنا چاہئے۔ ہم ایشیاء بحر الکاہل میں زبردست طاقت دشمنی اور تناؤ سے بچنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایشیاء میں معاشی ، تجارت اور سرمایہ کاری میں شراکت کے لئے کافی گنجائش موجود ہے۔ایشیاء کو باہر سے یا اندر سے پیدا ہونے والے تناؤ کا تھیٹر نہیں بننا چاہئے، ایشیاء میں تنازعات ایشیائی اقدار اور مفادات کی بنیاد پر ایشیائی حل کی ضرورت ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں