بی بی سی کی لیڈی ڈیانا کیساتھ دھوکہ دہی پر معذرت

لندن ( ویب ڈیسک ) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور اس کے صحافی مارٹن بشیر کی طرف سے شاہی خاندان کو معذرت کے خطوط روانہ کر دئیے گئے ہیں اور اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ 1995  میں بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے لیڈی ڈیانا کا انٹرویو لینے کیلئے جھوٹ بولا اور اس کیلئے جھوٹی دستاویزات دکھائی ۔

تفصیلات کے مطابق بی بی سی کے رپورٹر مارٹن بشیر کی طرف سے 1995 میں لیڈی ڈیانا کا انٹرویو پوری دنیا میں بہت مشہور ہوا تھا اور یہ برطانوی نشریاتی ادارے کیلئے ایک بہت بڑا سکوپ بنا تھا کیونکہ اسی انٹرویو میں لیڈی ڈیانا نے پہلی بار شاہی خاندان کیخلاف زبان کھولی تھی اور پرنس چارلس کی بے وفائی اور سخت رویہ کی بات کی تھی لیکن آج تقریباڈھائی دھائیوں بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف سے اس انٹرویو میں صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔

یہ انکشافات برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف سے ہونے والی ایک انکوائری میں ہوئے ہیں جس کا آغاز گزشتہ برس اس وقت کیا گیا جب لیڈی ڈیانا کے بھائی ایرل سپنسر نے مسلسل مارٹن بشیر کی طرف سے لئے جانے والے انٹرویو کے طریقے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انکوائری رپورٹ میں ثابت ہوا ہے کہ مارٹن بشیر نے انٹرویو حاصل کرنے کیلئے ایرل سپنسر نے ملاقات میں جو بنک دستاویزات دکھائیں وہ جعلی تھیں اور اسی بنیاد پر اسے لیڈی ڈیانا تک رسائی مل ٗ اس انٹرویو کے دوران بھی مارٹن بشیر نے غلط قسم کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے لیڈی ڈیانا سے مختلف باتیں اگلوانے کی کوشش کی۔

اس حوالے سے مارٹن بشیر اور بی بی سی کی طرف سے شاہی خاندان کو الگ الگ معذرت کے خطوط روانہ کردئیے گئے ہیں ٗ مارٹن بشیر نے ایک انٹرویو میں اس انٹرویو کے حوالے سے تسلیم کیا کہ وہ ایک بے وقوفانہ حرکت تھی اور مجھے اس پر افسوس ہے ٗ لیکن میں نے لیڈی ڈیانا پر انٹرویو کیلئے کوئی دبائو نہیں ڈالا تھا۔

اس انٹرویو کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ مانی جاتی ہے کیونکہ اسی انٹرویو کے بعد پہلی بار شاہی خاندان کے ایک رکن نے بغاوت کی ٗ شاہی خاندان کیخلاف باتیں کیں ٗ اور مانا جاتا ہے کہ یہی وہ انٹرویو تھا جس وجہ سے لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس میں علیحدگی ہوئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں