کراچی طیارہ حادثہ: ’ زند ہ بچ جانےپر پچھتاوا ہے‘

کراچی(ویب ڈیسک) کراچی میں المناک طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ طیارے میں خرابی نہیں تھی بلکہ یہ حادثہ کلی طور پر پائلٹس اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں المناک حادثے میں زندہ بچ جانے والے سی ای او بینک آف پنجاب ظفر مسعود نے کہا حادثے کے بعد وہ ’ زند ہ بچ جانےکے پچھتاوے‘ میں مبتلا ہو گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اب جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ملنےکی ہمت نہیں ہوتی، جو کچھ ہوا، اس نے معجزات پران کا یقین بڑھا دیا ہے.

واضح رہے کہ گزشتہ سال 22مئی 2020کو جمعہ کے روز پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے لاہورکے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے کراچی کے لیے اڑان بھری تاہم طیارہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب رہائشی آبادی پرگرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے عملے کے8ارکان سمیت97افرادجاں بحق ہوگئے تھے اور2 مسافر خوش قسمت رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں