کیا بنگلہ دیش نے درپردہ اسرائیل کو تسلیم کرلیا ؟

ڈھاکہ ( ویب ڈیسک ) بنگلہ دیش کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھانے کے اپنے اقدام سے پیچھے ہٹتے ہوئے یہ واضح کرنا پڑ گیا ہے کہ اس کے اسرائیل کیساتھ وہی تعلقات ہیں جو پہلے تھے اور ان میں کوئی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر لکھی ہوئی ایک تحریر ہٹا دی گئی ہے جس کچھ اس طرح تھی ’’اسرائیل کو چھوڑ کر باقی تمام ممالک کیلئے ‘‘۔ اس تحریر کو مٹانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسرائیل کی طرف سے تعریفی کلمات ادا کئے گئے تو پوری دنیا کے مسلمان ممالک کی طرف سے اس پر شدید ردعمل آیا۔

اس ردعمل کے جواب میں بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کے ساتھ خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی اور اب بھی بنگلہ دیشی شہریوں پر اسرائیل جانے کی پابندی برقرار رہے گی ۔

بنگلہ دیش کے مطابق ان الفاظ کا مقصد یہ تھا کہ بنگلہ دیشی پاسپورٹ کوبین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے لیکن اس کا مقصد یہ کہیں نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کئے جا رہے ہیں۔

یورپی خارجہ ماہرین کا اس حوالے سے تبصرہ ہے کہ درحقیقت بنگلہ دیش کی طرف سے پاسپورٹ سے یہ عبارت ہٹائے جانے کے بعد بنگلہ دیشی شہری اب اسرائیل جا سکیں گے اور بنگلہ دیشی کی طرف سے دئیے جانے والے یہ سب بیان سیاسی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں