بھارت میں پھیلنے والی جان لیوا وبا ’میوکورمائیکوسیس‘ کیا ہے؟

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے لیے ایک اور وبا نے جنم لے لیا۔ میوکورمائیکوسیس نامی فنگل انفیکشن جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں اس فنگل انفیکشن کی وجہ سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

میوکورمائیکوسیس کے نام سے سامنے آنے والے فنگل انفیکشن میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض مبتلا ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن نوڈل آفیسر میوکورمائیکوسیس ڈاکٹر کے رمیش ریڈی کا کہنا ہے کہ فنگل انفیکشن سے متاثرہ مریضوں کو آنکھوں سے متعلق امراض کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں – کورونا ویکسین لگنے کی جگہ پر مقناطیس کیوں چپکتا ہے؟

سندارام متارنجن ایم ڈی کا کہنا ہے کہ یہ عام طور پر کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے مریضوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ایک عام قسم ہے جو ناک اور آنکھوں کے ذریعہ داخل ہوتی ہے، ہڈیوں کے ذریعہ پھیلتی ہے اور دماغ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔

‘میوکور’ ایک ایسی پھوپھوندی ہے جو نم علاقوں، دیواروں اور سیم زدہ جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں بھی آپ کو نظر آ سکتی ہے۔ بنیادی طور پہ یہ ایک فنگس ہے جو خون کے راستے میں رکاوٹ ڈالتا ہے جس سے اسکیمیا، ٹشو انفیکشن اور نیکروسیس ہوتا ہے۔

طاقت ور مدافعتی نظام اس کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن یہ مدافعتی قوت رکھنے والے افراد میں تیزی سے پھیلتا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ کیسز میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ جوں جوں یہ آنکھ میں پھیلتا ہے، تیزی سے بینائی کے ضائع ہونے اور اندھے ہونے کا سبب بنتا ہے۔ دماغ پر مہلک حملہ کو روکنے کے لیے اینوکلیشن لازمی انجام دینی چاہیے۔

ڈاکٹر کے رمیش ریڈی کا کہنا ہے کہ فنگل انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی بنیادی وجہ آکسیجن فلو میٹر میں استعمال کیا جانے والا پانی ہے۔ فلومیٹر میں استعمال کیے جانے والے پانی کا انتہائی پاک و صاف ہونا لازمی ہے۔ اس لیے ابال کر ٹھنڈا کیے گئے پانی کا ہی اس میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

پڑھنا مت بھولیں – چینی ویکسین لگوانے والے حج پر جا سکیں گے؟

ڈائریکٹر کے مطابق بوتل بند پانی اور مینرل واٹر بھی آکسیجن فلو میٹر میں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے تاکہ کورونا وائرس کے مریض یا وہ مریض جو کہ آکسیجن کے سہارے سانس لے رہے ہیں وہ اس مرض کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں۔

یہ وبا اس وقت بھارت میں کی ریاست میں مہاراشٹرا میں تیزی سے پھیل رہی ہے جہاں پر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک 4 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مریضوں کی تعداد ہزاروں کے حساب سے بڑھ سکتی ہے۔ ڈاکٹر ناترنجن کے کا کہنا ہے کہ وہ ای این ٹی سرجنز اور ڈینٹل سرجنز کے ساتھ مل کر ایک سروے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میوکورمائیکوسیس کی علامات میں آنکھوں کا درد، ناک کا بہنا، سونگھنے کی حس ختم ہونا، دانتوں میں درد ہونا، خون بہنا وغیرہ شام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں