اٹلی میں پاکستانی لڑکی کا والدین کے ہاتھوں قتل کا خدشہ

روم ( ویب ڈیسک ) اٹلی میں ایک 18 سالہ پاکستانی لڑکی کی تلاش جاری ہے جس کے بارے میں پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ارینج میرج سے انکار پر اس کے خاندان نے اس کو قتل کر کے لاش کو کہیں چھپا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اٹلی کی پولیس نے قتل کے الزام میں لڑکی کے والدین ٗ انکل اور دو کزنز کو شامل تفتیش کر لیا ہے اور ان کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ انہوں نے قتل میں حصہ لیا ہے ٗ 18 سالہ لڑکی ثمن عباس کی لاش کو قریبی علاقے اور خاص طور پر کھیتوں میں تلاش کیا جا رہا ہے جہاں پر پولیس کے مطابق اس کی لاش مل سکتی ہے۔

پاکستانی خاندان اٹلی کے شمالی شہر نوویلارا میں رہتا ہے جہاں پر ثمن عباس گزشتہ ایک سال سے خاندان کی طرف سے ارینج میرج کے دبائو کے تحت زندگی گزارنے میں مصروف تھی ٗ ثمن کے والدین پاکستان میں اس کی ارینج میرج کرنا چاہتے تھے۔

ثمن عباس نے اس ارینج میرج کیخلاف پولیس میں درخواست کی جس کے بعد انہیں شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا کیونکہ ابھی وہ بالغ نہیں ہوئی تھیں اور 17 سال کی تھیں لیکن والدین کی طرف سے معافی مانگنے اور تحفظ کی یقین دہانی کرانے پر ثمن عباس گزشتہ ماہ 11 اپریل کو دوبارہ والدین کے پاس رہنے کیلئے پہنچ گئی تھیں۔ثمن پانچ مئی سے لاپتہ ہے جبکہ اب پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے والدین نے اس کو قتل کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں