اسرائیل کے ممکنہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ سے ملئے

تل ابیب ( ویب ڈیسک )اسرائیل کے وزیر ا عظم کو بے گناہ فلسطینیوں پر مظالم بھی نہیں بچا سکے اور اب ان کی وزارت عظمیٰ ان کے ایک شاگرد اور اسرائیل کے ایک ممتاز صحافی کے ہاتھ میں ہے اور یہی دو افراد ہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو کو اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے سنگین خطرہ کا سامنا ہے ، انہیں کرپشن کیسز کا سامنا ہے اور اگر وہ وزارت عظمیٰ سے اتارے جاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ان سے وہ استثنا چھین لیا جائے جس کے تحت وہ کرپشن کے مقدمات سے بچ رہے ہیں اور جیل نہیں جا رہے ٗ لیکن اسرائیل میں ایسے دو افراد ہیں جن کے ہاتھ میں نیتن یاہو کے مقدر کی کنجی ہے ٗ ان میں سے ایک نیتن یاہو کے سیاسی شاگرد نفتالی بینیٹ اور ٹی وی کے مشہور صحافی یائر لاپڈ شامل ہیں۔

نفتالی بینیٹ کون ہے ؟

49 سالہ اسرائیلی سابق بزنس مین اور حالیہ سیاستدان بینیٹ بلین ڈالر ہیں ٗ یہ نیتن یاہو کے سیاسی شاگرد ہیں جنہوں نے خود کو اسرائیل کے سیاسی منظر نامے پر ایک اہم مقام پر پہنچا دیا ہے ٗ یہاں تک کہ وہ نیتن یاہو کا تختہ الٹنے کے قریب آ گئے ہیں اور اب ان کی جگہ پر لے سکتے ہیں۔اگر بینیٹ اسرائیل کے وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ اسرائیل کے سب سے زیادہ شدت پسند مذہبی وزیر اعظم ہوں گے۔یہی بینیٹ ہیں جنہوں نے 2020  میں وزارت دفاع سمیت جب پانچ وزارتوں کا حلف اٹھایا تھا تو ’’اسرائیل کی ریاست‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں