اسرائیلی خوفزدہ کتا فلسطینی شہدا سے زیادہ حقوق رکھتا ہے؟

کینبرا ( ویب ڈیسک ) آسٹریلوی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اسرائیلی خاتون کو یہ شکات تھی کہ حماس کی طرف سے جب راکٹ حملے کئے گئے تو اس کے بیٹے کا کتا خوفزدہ ہو گیا جس کے جواب فلسطینی مصنفہ رندا عبدل فاتح نے جواب دیا کہ شکر کریں آپ کے بیٹے کے پاس ایک کمرہ تھا جہاں وہ اپنے کتے کے ساتھ محفوظ تھا جبکہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے فلسطین کے نو خاندان جن کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہ تھا وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹا دئیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کردی ہے جس میں آسٹریلوی ٹی وی کے ایک پروگرام کا کلپ دکھایا گیا ہے اس میں ایک اسرائیلی بزرگ خاتون نے کہا کہ اس کا بیٹا ریڈ کراس میں کام کرتا ہے ٗ جب حماس کی طرف سے راکٹ داغے گئے تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں تھا ٗوہ تو مطمئن اور محفوظ تھا لیکن اس کا کتا ان حملوں کی آوازیں سن کر خوفزدہ ہو گیا ٗ کیا حماس اسرائیلی سویلینز پر حملے پر آواز نہیں اٹھانی چاہیے۔

آسٹریلوی ٹی وی شو کے میزبان نے اس کا جواب دینے کا موقع پروگرام میں شریک ممتاز فلسطینی مصنفہ رندا عبدل فاتح کو دیا جس کے جواب میں وہاں موجود ہر شخص کو آزردہ کر دیا اور پھر سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہو گئی جس نے اسرائیلی مظالم کا پول کھول دیا۔

فلسطینی مصنفہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکر کریں کہ آپ کے بیٹے کے پاس ایک محفوظ کمرہ تھا جہاں وہ اپنے کتے کے ساتھ موجود تھا ٗ مگر آپ یہ سوچیں گے ان فلسطینی شہریوں کا کیا قصور ہے جن پر اسرائیل جو امریکہ سے سالانہ تیس لاکھ ڈالر اسلحے کی مد میں فنڈنگ لیتا ہے اور جس کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہیں اور انہوں نے ان ہتھیاروں سے فلسطینیوں بے گناہوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے جواب دیا کہ فلسطین میں دو خاندان اسرائیل کی بمباری کے نتیجہ میں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ٗ چودہ سال سے اسرا ئیل نے فلسطینیوں پر آمد و رفت کے راستے بند کر رکھے ہیں اور یہاں پر آپ کو ایک کتے کے خوفزدہ ہونے کی فکر ہے۔سوشل میڈیا پر ایک صارف نے اس ویڈیو پر تبصرہ لکھا ’’ کیا اسرائیلی کتا ٗ فلسطینی شہدا سے کیا حقوق رکھتا ہے ؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں