’’ساتھ زندگی گزارنے کیلئے شادی کرنے کی کیا ضرورت ؟‘‘

لندن(ویب ڈیسک) ملالہ یوسف زئی جو نوجوان پاکستانی تعلیمی کارکن اور نوبل امن انعام جیتنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں، 2021 کے جولائی کے ایڈیشن میں برطانوی میگزین ووگ کی کور اسٹار بن گئیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی گریجویٹ نے بھی بدھ کے روز میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اس بات کو شیئر کیا۔

“برٹش ووگ کے کور پر آنا بہت خوش آئند ور پرشائستہ ہے!” یوسف زئی نے انسٹاگرام پر شیئر کیا۔ انہوں نے مزید کہا “مجھے اس طاقت کا اندازہ ہے جو ایک جوان لڑکی کے پاس اس کے دل میں ہوتی ہیں ، جب اس کا ویژن اور ایک مشن ہوتا ہے – اور مجھے امید ہے کہ ہر وہ لڑکی جو اس کور کو دیکھے گی اسے پتہ چل جائے گا کہ وہ دنیا کو بدل سکتی ہے۔”

اس حوالے سے ملالہ نے برطانوی فیشن میگزین ووگ کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے لباس سے متعلق کہا کہ ’یہ ہمارے پشتون کلچر کی پہچان ہے اور اس لباس سے معلوم ہوتا ہے کہ میرا تعلق کہاں سے ہے۔‘

ملالہ نے کہا کہ ’جب ہم پشتون یا پاکستانی لڑکیاں اپنے ثقافتی لباس پہنتے ہیں تو ہمیں مظلوم سمجھا جاتا ہے لہٰذا میں ہر ایک کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت اور کلچر کے اندر بھی خود کی آواز بن سکتے ہیں۔‘


میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ملالہ نے کہا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں ٗ اگر آپ کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو شادی کے پیپر پر دستخط کی کیا ضرورت ہوتی ہے ٗ کیوں یہ صرف یہ پارٹنر شپ نہیں ہوسکتی ۔

ملالہ نے مزیڈ کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہر لمحے وہ لطف اندوز ہوتی تھی جس میں میک ڈونلڈز جانا اور پوکر کھیلنا شامل تھا۔ انہوں نے گذشتہ سال برطانیہ کی شہرہ آفاق یونیورسٹی سے سیاست ، فلسفہ اور معاشیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں