اسرائیلی فورسز کا خاتون صحافی پر مکوں ٗ ٹھڈوں سے حملہ

رملہ ( ویب ڈیسک ) اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ ٹی وی نمائندہ کوشیخ جراح میں رپورٹنگ کرنے پر گرفتاری کے بعد آخر کار رہا کر دیا گیا ٗ مگر اسرائیل انتظامیہ کی طرف سے آزادی اظہار پر ایک بڑا حملہ کرتے ہوئے الجزیرہ کی رپورٹر پر شیخ جراح کے علاقے میں داخلے اور رپورٹنگ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شیخ جراح میں اسرائیلی عدالت کے فیصلے کے بعد 8 فلسطینی گھرانے سے گھر خالی کرائے جانے کا عمل کسی بھی وقت ہوا چاہتا ہے جس کیلئے فلسطینی احتجاج کرنے میں مصروف ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی طرف سے شیخ جراح میں پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی رپورٹنگ کیلئے الجزیرہ ٹی وی کی نمائندہ گیوارالبدغیرییروشلم میں موجود تھیں۔

گیوارالبدغیری کی گرفتاری چار جون کو اس وقت عمل میں آئی جب اسرائیلی پولیس نے وہاں پر موجود صحافیوں اور فلسطینیوں پر بے دریغ ڈنڈوں سے حملہ کر دیا اور دھرنے پر موجود لوگوں کو وہاں سے زبردستی اٹھا دیا ٗ اس موقع پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے والی گیوارالبدغیری کو ان کی ٹیم کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

گیوارالبدغیری نے رہائی کے بعد ایک بیان میں کہا کہ میری گرفتاری تمام صحافیوں کو براہ راست نشانہ بنانا تھا ، اور قابض فوجیوں نے مجھے اپنا شناختی لانے کے لئے کوئی وقت نہیں دیا اور مجھے ٹھڈےمارنا شروع کئے، دھکا دیا اور پھر مجھے ہتھکڑی لگائی ٗ قابض فوجیوں نے حراستی سنٹر میں میرے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے میں ایک صحافی نہیں بلکہ کوئی عادی مجرم ہوں۔

الجزیرہ ٹی وی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ گیوارالبدغیری کو ان کی ٹیم کیساتھ رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان پر اسرائیلی حکام کی طرف سے پندرہ دن کیلئے پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ شیخ جراح میں کوئی صحافتی ذمہ داری ادا نہیں کر سکیں گے ٗ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہی دنوں میں وہ فلسطینیوں سے گھر خالی کروا لیں گے اور اس موقع پر کوئی میڈیا بھی وہاں پر موجود نہیں ہو گا جو دیکھ سکے گا کہ فلسطینیوں پر کیا مظالم ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں