برکینا فاسو میں دہشتگرد حملہ ،مرنے والوں کی تعداد 132 ہو گئی

اووگاڈاؤنگو(ویب ڈیسک) برکینا فاسو میں دہشتگردوں کے حملے میں 132 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، تجزیہ کاروں نے اس حملے (Burkina Faso shooting) کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام قرار دیا ہے۔ وہیں صدر روچ مارک کرسچن کابور نے اس حملے کو ‘وحشیانہ’ قرار دیا اور تین دن کے سوگ کا اعلان کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے برکینا فاسو کے غیر مستحکم شمال میں کم از کم 132 افراد کو ہلاک کیا ہے ، جب کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے “گھناؤنے حملے” کی مذمت کی اور ممالک سے “پُرتشدد انتہا پسندی” کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعہ کے روز رات کے وقت حملہ آوروں نے نائیجر سے متصل صوبہ یگھا کے سولہن گاؤں کے رہائشیوں کو ہلاک کر دیا۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے گھروں اور گاؤں کے بازار وں کو بھی جلایا۔

ہلاک شدگان میں سات بچے بھی شامل ہیں۔مزید 40 شہری بھی زخمی ہوئے ، ابھی تک کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ رات گئے حملہ برکینا فاسو میں برسوں میں ریکارڈ کیا گیا مہلک ترین واقعہ تھا۔ سن 2015 کے بعد سے ، مغربی افریقی ملک نے القاعدہ سے وابستہ اور حال ہی میں داعش سے منسلک گروہوں کی طرف سے لگاتار اور جان لیوا حملوں کے خلاف لڑنے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ حملے سب سے پہلے مالی کی سرحد کے قریب شمال میں شروع ہوئے تھے ، لیکن اس کے بعد سے یہ دوسرے علاقوں میں پھیل چکے ہیں ، خاص طور پر مشرق میں ، جس سے دنیا کا ایک انتہائی شدید انسانی بحران پیدا ہوا۔

برکینا فاسو میں تقریبا 12 لاکھ افراد ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، کیونکہ مسلح گروہوں نے ہزاروں فرانسیسی فوجیوں اور دیگر بین الاقوامی اور علاقائی فورسز کی موجودگی کے باوجود فوج اور عام شہریوں پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے کہا کہ وہ برکینا فاسو میں ہونے والی ہلاکتوں سے “مشتعل” ہیں اور انہوں نے ملک کو عالمی ادارہ کی “مکمل حمایت” کی پیش کش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں