اسرائیل نے سماجی کارکن مونا الکرد کو حراست میں لے لیا

بیت المقدس(پبلک نیوز) فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پولیس نے سرگرم سماجی کارکن مونا ال کرد کو حراست میں لیا ہے، وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے شیخ جارح سے فلسطینیوں کے جبری اخراج کو روکنے کی مہم میں سب سے آگے رہی ہیں۔ مونا کے والد نبیل ال کرد نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس نے شیخ جارح میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر23 سالہ سماجی کارکن کو حراست میں لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں صلاحہدین اسٹریٹ کے ایک اسرائیلی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے مطابق وہ اپنے گھر والوں کو یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے کہ اسرائیلی پولیس اسے گھر سے لے جا رہی ہے۔ محمد ال کرد اپنی بہن مونا کے ہمراہ فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے خلاف سوشل میڈیا مہم #SaveShekh Jarrah چلا رہے تھے۔

مونا ال کرد کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک دن پہلے اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ ٹی وی نمائندہ کوشیخ جراح میں رپورٹنگ کرنے پر گرفتاری کے بعد آخر کار رہا کیا گیا تھا. مگر اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے آزادی اظہار پر ایک بڑا حملہ کرتے ہوئے الجزیرہ کی رپورٹر پر شیخ جراح کے علاقے میں داخلے اور رپورٹنگ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ شیخ جراح میں اسرائیلی عدالت کے فیصلے کے بعد 8 فلسطینی گھرانے سے گھر خالی کرائے جانے کا عمل کسی بھی وقت ہوا چاہتا ہے جس کیلئے فلسطینی احتجاج کرنے میں مصروف ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی طرف سے شیخ جراح میں پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی رپورٹنگ کیلئے الجزیرہ ٹی وی کی نمائندہ گیوارالبدغیرییروشلم میں موجود تھیں۔

الجزیرہ ٹی وی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ گیوارالبدغیری کو ان کی ٹیم کیساتھ رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان پر اسرائیلی حکام کی طرف سے پندرہ دن کیلئے پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ شیخ جراح میں کوئی صحافتی ذمہ داری ادا نہیں کر سکیں گے ٗ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہی دنوں میں وہ فلسطینیوں سے گھر خالی کروا لیں گے اور اس موقع پر کوئی میڈیا بھی وہاں پر موجود نہیں ہو گا جو دیکھ سکے گا کہ فلسطینیوں پر کیا مظالم ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں