بابر اعظم کی درخواست پر سماعت29 جون تک ملتوی

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی درخواست پر سماعت۔ عدالت نے درخواست پر سماعت 29 جون تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس محمد وحید خان نے بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کی اور بابر اعظم کے وکلا کو حامیزہ کے بیان اور پولیس رپورٹ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محمد وحید خان نے سوال کیا کہ آپ کا کیس کیا ہے؟ جس پر بابر اعظم کے وکیل نے کہا حامیزہ نے دوہزار اٹھارہ میں صلح کرلی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس صلح نامہ کی مصدقہ نقول ساتھ لف نہیں کی گئی؟ یہ بیان خاتون نے کہاں دیا تھا؟ کسی عدالت میں یہ بیان دیا گیا؟

بابر اعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ بیان پولیس کو دیا گیا تھا۔ پولیس رپورٹ منگوا لیں اس میں سب واضح ہوگا۔ حامیزہ مختار نے بابر اعظم کو بلیک میل کرنے کیلئے جھوٹی درخواست دائر کی
عدالت نے بابر اعظم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے کیس میں حامیزہ کی درخواست پر پولیس رپورٹ کی مصدقہ نقول نہیں لگائی؟ جب آپ مصدقہ نقول ساتھ لف کرینگے تو اس کی کیا اہمیت ہوگی؟ یہ دو ہزار اٹھارہ کا معاملہ ہے اور پولیس کی مصدقہ رپورٹ آپ فراہم کریں۔

بابر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیشن عدالت نے حقائق کے برعکس بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کا حکم جاری کیا۔ خاتون حامیزہ مختار 2018ء میں ہی بابر اعظم سے صلح کر کے معاملے ختم کر چکی تھی،

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھی حامیزہ مختار کو دھمکی آمیز کالز موصول ہونے متعلق منفی رپورٹ پیش کی۔ سیشن عدالت نے شواہد کے بغیر بابر اعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کی کارروائی غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کی جائے۔ درخواست کے حتمی فیصلے تک بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کے حکم پر عملدرآمد روکا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں