فلسطین دشمن نئے اسرائیلی وزیر اعظم کون ہیں ؟

تل ابیب ( ویب ڈیسک ) اسرائیل کے نئے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ بہت سارے عربوں کو مارنے کے خواہاں رہے ہیں اور کئی بار فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار کر چکے ہیں ٗ وہ مذہبی انتہا پسندی کے پرچارک ہیں اور ان کے آنے کے بعد اسرائیل اور فلسطین تعلقات میں بہتری کی امیدیں بہت کم رہ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے 36 ویں وزیر اعظم نفتالی بینیٹ عربوں اور فلسطینیوں کو لیکر اپنے سخت موقف کے حوالے سے مشہور ہیں ٗ نفتالی 1972 میں امریکہ میں پیدا ہوئے ٗ لیکن ان کی پرورش حائفہ شہرمیں ہوئی ٗ انہوں نے 1999 میں دوسرے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک آئی ٹی کمپنی ’’سیوٹا‘‘ بنائی جو انٹرنیٹ پر معلومات محفوظ رکھنے کے حوالے سے ایک ایپ تھی ٗ 2005 میں اس کمپنی کو ایک امریکی ادارے نے 145 ملین ڈالر میں خرید لیا جس نے نفتالی بینیٹ کو ارب پتی بنا ڈالا۔

انہوں نے 2005 میں سیاسی زندگی میں قدم رکھا اور ان کو اس کیلئے نیتن یاہو کی جماعت نے پہلا قدم رکھنے کا موقع دیا ٗ انہوں نے نیتن یاہو کی انتخابی مہم چلائی ٗ انہیں 2009 میں نیتن یاہو نے یروشلم میں آبادی کاری کونسل کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا ٗ 2012 میں ان کے سیاسی سفر کو ایک عروج ملا جب انہیں جیوش ہوم پارٹی کا سربراہ چن لیا گیا اور وہ 2018 تک اس انتہا پسند یہودی جماعت کے سربراہ رہے ٗ2013 کے انتخابات میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کو 12 نشستوں پر کامیابی دلوائی اور انہیں وفاقی وزیر چن لیا گیا۔

2020 میں نیتن یاہو کیخلاف اپوزیشن کی جماعتوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا جسے ’’یامینا‘‘ کا نام دیا گیا اور اسی اتحاد نے نفتالی بینیٹ کو وزارت عظمیٰ تک پہنچایا ۔

میرے دور اقتدار میں فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن

نفتالی بینیٹ اپنے فلسطین مخالف نظریات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ٗ انہوں نے 2013 میں اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے عربوں کو مار ڈالا ہے ، اور اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے ،اگر آپ دہشت گردوں کو پکڑ لیتے ہیں تو ، آپ انہیں صرف مار سکتے ہیں۔

ایک اور انٹرویو میں نفتالی بینیٹ نے کہا کہ فلسطینی دہشت گردوں کو رہا نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں مار دینا چاہیے ٗ یہاں کوئی فلسطینی ریاست نہیں تھی اور اسرائیلی فلسطینی تنازعہ کبھی حل نہیں ہو سکتا ۔بینیٹ نے نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی رائے کو سختی سے بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے سکتا ہے‘‘۔

2017 میں دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے دور حکومت میں کبھی بھی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی ٗ کوئی بھی فلسطینی ریاست اگلے 200 سالوں میں اسرائیل کے لئے تباہی کا باعث ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں