’’وفاق نالوں کو چھوڑ کر بڑے منصوبوں پر کام کرے‘‘

کراچی ( پبلک نیوز) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ اس سیزن میں 8.2ملین ایکٹر ملنا چاہیے تھا ٗ ہمیں 5 ملین ایکٹر فٹ پانی ملا ہے ٗ میں پنجاب پر الزام نہیں لگا رہا ٗ کے پی کے کو 38 فیصد زیادہ ملا ہے ٗ بلوچستان اور سندھ کو 35 فیصد پانی کی شارٹیج ملی ہے ٗ یہ کام ارسا کا ہے ٗ جب ان سے کام نہیں ہوتا کسی اور کو آگے رکھ دیتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت ارسا کو کنٹرول کررہی ہے ٗ سندھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ ہم انسپکٹر نہیں آنے دے رہے ہیں ٗ اگر آپ سمجھتے ہیں تو پھر ارسا کو ختم کردیں ٗ پتا نہیں ارسا کیوں خاموش ہے ٗ یہ سیاسی ایشو نہیں ہے ٗ یہ ٹیکنکل ایشو ہے ٗ اس کو خوامخواہ سیاسی ایشو بنادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ہم پنجاب یا کسی اور صوبے پر پانی چوری کا الزام لگا رہے ہیں ٗ یہ تاثر بالکل غلط ہے، ہمارے تحفظات وفاقی حکومت اور ارسا سے ہیں ٗ معاہدے کے مطابق اس سیزن میں صوبہ سندھ کو 8.292 ملین ایکٹر پانی ٗ اصل میں ہمیں 35 فیصد پانی 2 مہینے 10 دن میں ہم پانی ملا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب کو اسی دوران 23 فیصد کم پانی ملا، کے پی کو 38 فیصد زیادہ پانی ملا، بلوجستان کی کمی سندھ کے برابر ہے ٗ بدقسمتی سے وفاقی حکومت ارسا پر دباو ڈال رہی ہے ٗ 3 سال سے زیادہ ہوگئے سی سی آئی میں معاملہ اٹکا ہوا ہے ٗ ہمیں پیسے دے کر کوئی احسان نہیں کررہے ہوں ٗ 70 فیصد صوبے پر خرچ ہورہاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ چور ہیں ٗ یہ آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ہے ٗ اس آئین کو آپ کچل نہیں سکتے ہیں ٗ مردم شماری کے لیے لکھ دیا ہے کہ جوائنٹ سیشن بلوایا جائے ٗ اس ملک کے پارلیمنٹیرینز سے امید ہے وہ حق کی بات کریں گے ٗ جلد از جلد جوائنٹ سیشن بلوایا جائے ٗ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہیں کہیں نالے نہیں بنائے ٗ پنجاب میں کئی جگہ نالے بنائے ہیں ٗ یہ نالوں میں ہی بہہ جائیں گے، لکھ کے دیتا ہوں ٗ وزیر اعظم کو اختلافی نوٹ بھی بھیجا تھا ٗ یہ نوٹ تاریخ کا حصہ بنے گا کہ ایک صوبے نے اعتراض اٹھایا تھا کہ وفاق بڑے منصوبوں کی بجائے نالوں پر کام نہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں