36

وکلاء کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں شدید احتجاج، تھوڑ پھوڑ

اسلام آباد (پبلک نیوز) چیمبرز گرانے پر وکلاء کا شدید احتجاج جاری ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، وکلاء کی جانب سے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف نعرے بازی کا بھی سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وکلاء برادری اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلا چیمبر گرانے پر سراپا احتجاج ہیں۔ وکلا کی جانب سے ویڈیو بنانے پر صحافیوں سے بھی بدتمیزی کی گئی ہے۔ پولیس کے دستے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ چکے ہیں۔ چیف جسٹس بلاک میں وکلا کے داخل ہوتے سپیشل سیکورٹی پولیس موجود نہیں تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا قائد اعظم ہال میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جو ہوا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ کے لوگ جو چیف جسٹس صاحب کی عدالت کے باہر موجود ہیں یہاں آجائیں۔ جب تک وہ یہاں نہیں آئیں گے، چیف جسٹس صاحب یہاں نہیں آسکتے۔ آپ لوگوں کے چار سے پانچ چیمبرز کا مسئلہ تھا جو بیٹھ کر حل ہو سکتا تھا۔ پہلے بھی کہا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اور سیکرٹری بار تعاون کریں اور تمام وکلاء کو یہاں ہال میں جمع کروائیں۔ یہ تُک نہیں بنتی تھی آپ لوگوں نے اندر آکر تھوڑ پھوڑ شروع کر دی۔ وکلا نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جو لوگ اغواہ ہوئے انھیں بازیاب کروایا جائے۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں جو لوگ مسنگ ہیں ان کے نام دے دیں، ابھی آرڈر کردیں گے۔

دوسری جانب ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات بھی ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوشش کررہے ہیں آدھے گھنٹے تک معاملات حل کریں گے۔ ابھی مذاکرات جاری ہے، اسی کا انتظار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں