لیڈی ڈیانا کے آخری لمحات کیسے گزرے؟

لندن (ویب ڈیسک) لیڈی ڈیانا کا آخری لمحات میں علاج کرنے والے ڈاکٹر نے لیڈی ڈیانا کے بارے میں بات کی ہے. ایک انٹرویو میں اس ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے لیڈی ڈیانا کو زندہ رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کی۔

پیرس کے تباہ کن حادثے کے بعد شہزادی ڈیانا کی جان بچانے کے لئے مختص ڈاکٹر دہمان کا کہنا ہے کہ اس نے ہر  کوشش کی کہ لیڈی ڈیانا کسی طرح دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں . ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ سالبٹیر اسپتال میں ایک سرجن کے طور پر کام کر رہا تھا کہ جب اسے 31 اگست کے ابتدائی اوقات میں ” ایک جوان عورت” کی زندگی بچانے کے لئے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں طلب کیا گیا تھا ۔

“میں ورک روم میں آرام کر رہا تھا جب مجھے ڈیوٹی سے متعلق چیف اینستھیسیولوجسٹ ڈاکٹر برونو ریو کا فون آیا تو انہوں نے مجھ سے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ جانے کا مطالبہ کیا ،” 56 سالہ دہمان نے ڈیلی میل کو بتایا ۔ “مجھے نہیں بتایا گیا یہ شہزادی ڈیانا تھیں۔ “بلکہ ، یہ صرف اتنا کہا گیا کہ ایک سنگین حادثہ میں ایک نوجوان عورت زخمی ہوئی ہے. ” انہوں نے مزید کہا ” جب مجھے ایک اعلی آفیسر کا فون ملا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ معاملہ خاصا سنجیدہ ہے۔”

ڈاکٹر دہمان ، جو حادثے کےوقت 33 سال کے تھے. نے بتایا کہ جب وہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پہنچے تو انہیں صورتحال کی شدت کا ادراک ہوا ، انہوں نے کہا ڈاکٹر ریو ایک اسٹریچر پر عورت کی دیکھ بھال کر رہے تھے ، پھر اس خاتون کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ڈیانا ، پرنسز آف ویلز ہیں۔

ڈاکٹر واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ، “یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے غیر معمولی سرگرمی کا اندازہ ہوا، ” اور انہوں نے مزید کہا ، “کسی بھی ڈاکٹر یا سرجن کے لیے یہ بہت ضروری اور اہم بات ہوتی کہ وہ لیڈی ڈیانا کا معالج ہے۔ ” ڈاکٹر دہمان نے ڈیانا کے علاج کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا ، لیکن کہا کہ ایک ایکس رے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہیں “بہت شدید اندرونی چوٹیں آئی‌ہیں اور انہیں خون کی منتقلی کی ضرورت ہے. شہزادی ڈیانا جو اپنی موت کے وقت 36 سال کی تھیں، کو تقریبا. 2 بجکر 25 منٹ پر دل کی ایمرجنسی سرجری کے لیے لیجانا پڑا۔ .

ڈاکٹر دہمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ، “میں نے یہ طریقہ کار اس لئےاختیار کیا تھا کہ وہ سانس لے سکیں ، ان کا دل ٹھیک سے کام نہیں کررہا تھا کیونکہ اس میں خون کی کمی تھی۔” ڈاکٹر دہمان نے وضاحت کی، جبکہ سرجری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیانا کو پیری کارڈیال جھلی میں شدیدزخم آئے تھے. پروفیسر ایلین پاوی ، جو فرانس کے ایک اہم کارڈیک سرجن ہیں ، ڈیانا کی جان بچانے میں مدد کے لئے پہنچے ، آپریٹنگ روم میں لے جایا گیا ، اور جراحی کی کھوج میں معلوم ہوا کہ شہزادی کی دل سے رابطے کے لیے قائم اوپری بائیں پلمونری رگ کٹ چکی تھی۔ پروفیسرنے کہا جراحی شروعات سے قبل ہی ڈیانا کا دل رک گیا تھا اور دوبارہ دل کی دھڑکن بحال نہ ہو سکی.

معالجہ کرنے والی ٹیم ایک گھنٹہ ڈیانا کی کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ “ہم نے بہت جدوجہد کی ، ہم نے بہت کوشش کی ، ۔ جب آپ ان حالات میں کام کرتے ہیں تو آپ کو احساس نہیں ہوتا کہ وقت گزر گیا ہے۔” اہم بات یہ ہے کہ ہم نے اس عورت کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیانا کو بچانے کے قابل نہ ہونے نے انہیں بہت متاثر کیا۔

ڈیلی میل کی خبر کے مطابق ، ڈاکٹر نے زور دے کر کہا کہ فرانسیسی طبی عملے نے شہزادی کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے ، اور انہوں نے “شہزادی کی موت کے بارے میں مستقل سازش کے نظریات” کو مسترد کیا۔ کئی سال بعد ڈیانا کی موت کی تحقیقات کرنے والے طبی شواہد کے جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہنگامی علاج اور سرجری میں ملوث افراد نے شہزادی کی زندگی کو بچانے کے لئے “ہر ممکن کوشش” کی۔ جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ “اس کے علاوہ کوئی اور حکمت عملی نہیں تھی.

شہزادی ڈیانا کی کہانی ایک بار پھر منظرعام پر آگئی ہے، ایک شاہی صحافی اور شہزادی ڈیانا کی دوست رچرڈ کیی کے ساتھ اس فون کال کے بارے میں بات کیجا رہی ہے جو اس صحافی کا موت سے قبل پرنسز آف ویلز کے ساتھ آخری رابطہ بن گیا تھا ، اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ شہزادی کو آخری وقت میں دو بیٹوں ولیم اور ہیری سے ملنے کی شدید خواہش تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں