سوشل میڈیا کے نئے قواعد ضوابط کے پہلے مسودے میں کیا ہے ؟

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کو ہٹانے اور بلاک کرنے کے حوالے سے قواعد و قوابط کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے ٗ جس میں آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت حکومت پاکستان کی طرف سے ایسے کسی بھی مواد کو ہٹایا جا سکے گا جس میں اسلام کی عظمت ٗ پاکستان کی سلامتی ٗ امن عامہ ٗ اخلاقیات ٗ سالمیت اور دفاع پاکستان کیخلاف بات کی گئی ہو اور اس سلسلہ میں سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم کی پالیسی گائیڈ لائن کے اوپر پاکستان کے قانون کو رکھا جائیگا ۔

ایک نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق قواعد و ضوابط کا یہ پہلا مسودہ 13 صفحات پر مشتمل ہے جس میں چھ ابواب ہیں ٗ اگر کسی بھی پاکستانی شہری ٗ وزارتوں ٗ متعلقہ اداروں ٗ قانون نافذ کرنے والے اداروں ٗ انٹیلی جنس ایجنسیوں یا حکومتی اہلکار کو آن لائن مواد کے بارے میں کچھ غلط محسوس ہوتا ہے تو وہ اس کی شکایت درج کروا سکتا ہے ۔

اس سلسلہ میں حکومت کی طرف سے متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو احکامات جاری کئے جائیں گے اور اگر متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے اس مواد کو نہ ہٹایا تو اسے عارضی یا مستقل طور پر بند کرنے کے احکامات بھی جاری کئے جا سکتے ہیں ٗ وزارت نے سٹیک ہولڈر سے اس ابتدائی مسودے کے حوالے سے سفارشات 28 جون تک طلب کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں