حکومت نے آئی ایم ایف کی ٹیکس تجاویز مسترد کر دیں

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کو بھی بتادیا کہ عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا، آئی ایم ایف نے 700 ارب ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی.

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین کا قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موبائل فون پر 5 منٹ کی کال کےبعد 75 پیسےٹیکس ہوگا،انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا . وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا.آئی ایم ایف کے نئے ٹیکس لگانے کے مطالبے کی مخالفت کی اور مسترد کیا، اس صورتحال میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی حل نہیں تھا.

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس کی چھوٹ اور فوڈ آئٹمز پر ٹیکس واپس لے لیے گئے، آئی ٹی فرمز پر ٹیکس زیرو کر دیا.آئی ٹی شعبے کے تمام مطالبات تسلیم کیے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے 10 فیصد کر دیا گیا، آٹے اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر کوئی ٹیکس نہیں، دودھ پر ٹیکس ختم کر دیا گیا، سرکاری ملازمین کے میڈیکل پر ٹیکس ختم کر دیا. ٹیکسٹائل پر دی جانے والی مراعات آئندہ بھی جاری رہیں گی، میری گاڑی کے نام سے نئی اسکیم لارہے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ زرعی اجناس کی فروخت کے لیے مڈل مین کا کردار ختم کردیاگیا ،زرعی اجناس کی فروخت کے لیے نیا نظام لارہے ہیں، آٹے اور اس سےمتعلقہ مصنوعات پرکوئی ٹیکس نہیں.زراعت کو 25ارب روپے زائد دیئے جارہےہیں ، ہمیں زراعت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی،زرعی قرض دیئے جائیں گے.

اس سے قبل سینیٹ میں اپنے خطاب میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا آ گیا ہے۔ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس جمع کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ٹیکس نادہندگان کے خلاف تھرڈ پارٹی کی مدد لیں گے۔اس معاملےکوایف بی آر نہیں بھیجیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں