رافیل ڈیل یا کرپشن کا بازار

نئی دہلی(پبلک نیوز)‌رافیل کے سودے میں بھارتیوں نے کتنا کمیشن کھایا؟رافیل ڈیل میں بھارت نے رشوت کا بازار گرم کئے رکھا، سب سامنے آنے لگا

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی حکومت نے اربوں ڈالرز کی رافیل ڈیل میں کرپشن کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے. فرانس کے نیشنل فنانشل پراسیکیوٹر نے رافیل کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کے لئے جج نامزد کر دیا. بھارت نے 2016 میں 9.3 ارب ڈالر مالیت کے 36 ڈاسو رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا، فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ پہلے روز سے بد عنوانی کے الزامات کی زد میں ہے. عدالت لاکھوں ڈالرز کے خفیہ کمیشن اور بھارتی حکام کی رشوت خوری کی چھان بین کرے گی. رافیل ٖڈیل کے لئے ڈاسو اور ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ کی 2015 میں معاہدے کے قریب تھے.

اپریل 2016 میں نریندر مودی کے دورہ فرانس میں اچانک سب کچھ بدل گیا، نریندر مودی کے دورے میں رافیل ٖڈیل ہندوستان ایروناٹیکل کے بجائے نہ تجربہ کار انیل امبانی کی کمپنی کو مل گئی. انیل امبانی کی ریلائنس کمپنی نے سابق فرانسیسی صدر اولاندے کی پارٹنز کی ایک فلم کے لئے فنڈز فراہم کئے. ڈیل کے دوران ریلائنس سے تعلق رکھنے والی فرنچ کمپنی کو 143.7 ملین یورو ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ بھی منسوخ کیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں