فلسطینی مردوں کی اسرائیلی عورتوں سے شادی کی مخالفت

تل ابیب( ویب ڈیسک ) اسرائیل کے نئے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی طرف سے فلسطینیوں کیخلاف ایک نسل پرستانہ قانون اسرائیل کی پارلیمنٹ سے پاس کروانے میں ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ ان کو اپنی اتحادی جماعتوں کی طرف سے مطلوبہ ووٹ میسر نہیں آسکے اور حیران کن طور پر اس نسل پرستانہ قانون کو پاس کرنے میں حمایت کرنے سے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی انکار کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت کی طرف سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک نسل پرستانہ بل پیش کیا گیا جس میں یہ قانون سازی کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ عرب جو فلسطینی علاقوں سے اسرائیل آتے ہیں اور اسرائیلی عورتوں سے شادی کرتے ہیں انہیں اسرائیل کی شہریت نہیں دی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جماعت نے اپنے دلائل میں اسے اسرائیل کا قومی مسئلہ قرار دیا ٗ یورپی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ نفتالی بینیٹ کے اتحاد میں شامل 14مسلمان عرب رکن پارلیمنٹ نے اس بل کی ڈٹ کر مخالفت کی تو نفتالی کو اس بل کو منظور کروانے کی ایک ہی صورت نظر آئی اور انہوں نے سابق اسرائیلی وزیر اعظم اور اپنے سیاسی استاد نیتن یاہو سے رابطہ کیا لیکن حیران کن طور پر انہوں نے بھی اس بل کی منظوری کیلئے ان کی حمایت سے انکار کر دیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہ نسل پرستانہ بل منظور کروانے کیلئے 120میں سے 61ووٹوں کو حاصل کرنا ضروری تھی ٗ جبکہ نفتالی کو اس کیلئے صرف 59ووٹ حاصل ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں