کسی خاتون کی طرف دیکھنا بھی ہراسانی ہوتی ہے؟

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا کی ایک صارف نور الہدیٰ نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے بغیر اجازت آگے والی گاڑی میں بیٹھے بزرگ کی تصویر کھینچی ، ان کی گاڑی کی تصاویر لیں اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے الزام لگایا کہ یہ اس گاڑی کے بزرگ جن کی داڑھی بھی ہے نے مجھے گاڑی کی سائیڈ مرر سے دیکھا جس کی وجہ سے میں ہراساں ہوئی اس لئے ان کیخلاف ایکشن لیا جائے۔

دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے اس ٹویٹ پر ریپلائی دیا کہ یہ معاملہ پولیس کو بھجوا دیا ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر چل رہا تھا اس لئے ٹویٹر صارفین نے اس پر شدید ردعمل دیا اور خاتون کی اس حرکت کو سراسر غیر قانونی اور جھوٹ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ عمل سراسر غیر قانونی ہے اور اس خاتون نے ایک شخص کی بغیر اجازت تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں جو جرم بنتا ہے۔

عمر نامی ایک صارف نے اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد کیسے اس معاملے کو پولیس کو ریفر کر سکتے ہیں جبکہ خاتون کے الزامات غلط ہیں اور وہ خود ڈرائیونگ کے دوران موبائل استعمال کر کے غیر قانونی حرکت کر رہی ہیں۔

عمار یاسر نامی ایک ٹویٹر صارف نے تو سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ”حمزہ بھائی عقل کے ناخن لیں ، کیا کیا ہے بزرگ چچا نے ؟ گاڑی کے شیشے میں کونسا لنز فٹ ہے کہ وہاں سے ان حسینہ اول کو چچا دیکھ رہے ہیں اور یہ عورت ہراس ہو رہی ہے ؟ سو کالڈ لبرلز نے عام لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے“۔

ایک خاتون کی طرف سے ہراسانی کی شکایت واقعی ایک سنجیدہ عمل ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا راہ چلتے آپ سائیڈ ویو مرر نہیں دیکھ سکتے اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو کیسے کوئی خاتون اس سے ہراسانی محسوس کرتی ہے ؟ جبکہ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ خاتون کے اس عمل سے اس بزرگ کی ساری زندگی تباہ ہو سکتی ہے اور بے جا الزام پر انہیں کس صدمے کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا اندازہ کیا کوئی کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں