بغیر اجازت ملالہ کی تصویر شائع کرنا غیر قانونی قرار

لاہور(پبلک نیوز)‌ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ س نے بغیر بغیر اجازت کے ملالہ کی تصویر شائع کرنے کو غیر قانونی قرار دیدیا.

تفصیلات کے مطابق ملالہ کی تصویر شائع کرنے والی ساتویں جماعت کی کتاب قبضے میں لینے کے معاملہ پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے وضاحت جاری کر دی. پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے آکسفورڈ پریس کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ ترجمان کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سے بغیر اجازت کے ملالہ کی تصویر شائع کرنا غیر قانونی ہے، تمام کتابیں جو بغیر این او سی ہیں انکے کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے کتابوں کو تحویل میں لیا گیا. ترجمان کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے آکسفورڈ سوشل سٹڈیز کی کتابوں کا سٹاک قبضے میں لے لیا.

پی سی ٹی بی نے ایک سماجی علوم کی کتاب ضبط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اعتراض نامہ سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کے باوجود شائع کیا گیا تھا۔ ترجامن کا کہنا تھا کہ کتاب کا سارا سٹاک لاہور کی کی کتاب مارکیٹ سے اٹھایا گیا ہے، نجی پبلشر نے این او سی کے بغیر ملالہ کی تصویر شائع کی ہے۔

وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے معاملے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کتاب آکسفوڈ پبلیشر کی جانب سے شائع کی گئی تھی جس کا این او سی کبھی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سے جاری ہی نہیں گیا تھا، این او سی نہ لینا قانون کی خلاف ورزی کرنا ہے.

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ساتویں جماعت کی سماجی علوم کی ایک کتاب کے ایک صفحے کی تصویر وائرل ہوئی جس میں بیگم رعنا لیاقت علی خان ، عبدالستار ایدھی اور میجر عزیز بھٹی شہید کے ساتھ درسی کتب میں ملالہ یوسف زئی کی تصویر شا ئع کی گئی تھی. معاشرتی علوم کی کتاب میں پاکستان کی اہم شخصیات کے ساتھ ملالہ کی تصویر شامل کرنے پر شدید تنقید کے بعد تمام کتابوں کو ضبط کر لیا گیا ہے. یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب سوشل میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا جس میں صارفین نے اس طرح کے کمنٹ دیئے کہ ملالہ کی تصویر عبدالستار ایدھی کے ساتھ شائع کرنے کا یہ مطلب بنتا ہے کہ خدمات کے حوالے سے ان دونوں کا قد کاٹھ برابر ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے اور یہ بے انصافی کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں