ازبکستان میں وزیر اعظم کا استقبال سبز قالین پر کیوں؟

وزیر اعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر آج ازبکستان پہنچے۔ ازبکستان کے صدر شوکت میرزیوئیف نے تاشقند ایئرپورٹ پر ان کا شاندار انداز میں استقبال کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اعلیٰ کا وفد بھی تھا جس میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی شامل تھے۔

اس دورہ پر ایک بات ہوئی جو قابل توجہ اور معمول سے ہٹ کر تھی۔ وزیر اعظم کے استقبال کے لیے سرخ قالین (ریڈ کارپٹ) کے بجائے سبز قالین (گرین کارپٹ) بچھایا گیا تھا۔ یہ کارپٹ انفرادیت کی غرض سے تھا یا اس کا کچھ اور مطلب تھا؟

در اصل جب بھی کوئی بڑی شخصیت خاص طور پر سربراہانِ مملکت کسی دوسرے ملک کا دورہ کرنے پہنچتے ہیں تو ان کا استقبال کرنے کے لیے سرخ قالین بچھایا جاتا ہے، اس حوالے سے دنیا بھر میں ریڈ کارپٹ کی اصطلاح بھی عام طور پر مشہور ہے۔

سبز قالین کے استعمال سے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر کسی ایونٹ میں مدعو کیا جائے اور وہاں پر گرین کارپٹ استعمال ہونا ہو تو اس کا مطلب ہے وہ پروگرام یا تقریب کسی خاص وجہ مقصد تحت ترتیب دی گئی ہے یا منعقد کی گئی ہے۔

متعلقہ پروگرام ماحولیاتی مقاصد سے منسلک ہو سکتا ہے یا پھر اس کا مقصد فنڈ ریزنگ (عطیات اکٹھا کرنا) ہو سکتا ہے۔ ایسی تقاریب میں مخیر حضرات اپنی انسان دوستی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جاتا ہے کہ متعلقہ پروگرام یا تقریب امارت یا اعلیٰ شخصیات کو امیرانہ سوچ سے ہٹ کر دکھانے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔

ریڈ کارپٹ بنیادی طور پر معاشرتی اسباب کی بجائے امیر لوگوں کو امارت دکھانے کی علامت ہے۔

یہ تمام حقائق ایک طرف مگر تاحال اس حوالے کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے استقبال کے لیے گرین کارپٹ کیوں استعمال کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں