پاکستانی معیشت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری

اسلام آباد (پبلک نیوز) اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 2020-21ء آج جاری کر دی۔ مالی سال21ء کی تیسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کی رفتار مزید بڑھنے کا پتہ چلتا ہے۔

صنعتی شعبے خصوصاً (ایل ایس ایم) اور خدمات کے شعبے خصوصاً تھوک اور خردہ تجارت کی بحالی نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی شعبے میں پانچ اہم فصلوں میں سے چار؛ گندم، چاول، مکئی اور گنا کی ریکارڈ پیداوار نے کپاس کی پیداوار میں کمی کی تلافی کر دی۔

سیمنٹ، پیٹرولیم آئل، کاروں کی فروخت، صارفی قرضے، (ایف ایم سی جی) اور بجلی کی پیداوار میں مزید نمو سے معاشی سرگرمی بحال ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔ مالی سال کی حقیقی جی ڈی پی کی نمو3.9 فیصد رہنے کا عبوری تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مالی سال20ء میں یہ0.5 فیصد کم ہوئی تھی۔ ترسیلات سے جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران 4.5 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ توڑ سطح پر پہنچ گئیں۔ بیرونی شعبے کو ایک ریلیف جی 20 کی طرف سے قرض کی واپسی معطل کرنے کے اقدام سے ملا جس کے تحت بیرونی قرضے پر سودی ادائیگیوں کو معطل کیا گیا۔

بین الاقوامی فضائی سفر پر پابندیوں اور تیل کی پست عالمی قیمتوں نے بھی بیرونی شعبے کو سہارا دیا۔ ’’روشن ڈجیٹل اکاؤنٹ‘‘ سے بھی سہارا ملا جس نے اپریل 2021ء میں ایک ارب ڈالر کی سطح عبور کر لی۔

آئی ایم ایف کے دوسرے سے پانچویں تک جائزوں کی کامیاب تکمیل سے فنڈ سے 500 ملین ڈالر کے براہ راست قرضے کا راستہ کھل گیا۔ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر آخر مارچ 2021ء میں تین سال کی بلند ترین سطح 13.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے، جبکہ مالی سال 04ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران جاری کھاتے میں فاضل رقم موجود رہی۔

جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہا جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں 4.1 فیصد رہا تھا۔ اوسط عمومی مہنگائی دونوں لحاظ سے گذشتہ سال کی نسبت کم رہی۔ جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے عرصے میں بھی اور مالی سال 21ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران بھی تیسری سہ ماہی کے اعدادوشمار کا بنیادی سبب جنوری 2021ء میں قیمتوں کا کم ہونا ہے۔

بجلی، شکر، خوردنی تیل، سوتی کپڑے اور تیار ملبوسات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے فروری اور مارچ 2021ء کے دوران مہنگائی میں اضافہ کیا۔ نجی شعبے کو جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران دیا جانے والا قرضہ گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ تھا۔

تیسری سہ ماہی کے دوران 426.0 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی گئی، ان میں سے 74.0 ارب روپے ٹی ای آر ایف کے تحت دیے گئے۔ اگرچہ مالی سال 21ء کے دوران معیشت میں حوصلہ افزا بحالی دکھائی دی، تاہم بعض ساختی کمزوریاں برقرار رہیں جو قابلِ توجہ ہیں۔

زراعت کے شعبے میں، کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں