سندھ میں کم از کم تنخواہ 25ہزار دیوانے کا خواب بن گئی

کراچی (پبلک نیوز) سندھ حکومت کی مقررہ کم ازکم اجرت 25ہزار صنعتوں کو چلانے کی لاگت میں ناقابل عمل، صنعتیں اور سرمایہ دوسروں صوبوں و بیرون ملک منتقل ہونے کی منصوبہ بندی۔

تفصیلات کے مطابق کے سی سی آئی، ایف پی سی سی آئی سمیت ٹریڈ آرگنائزیشنز کی کم سے کم اجرت 25ہزار ماہانہ کرنے کے فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے ورکرز کے لیے برخلاف طریق قانون کم از کم اجرت 17ہزار 500 سے بڑھا کر 25ہزار مقرر کرنے کا اقدام متنازع قرار دے دیا گیا۔

کراچی چیمبر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کراچی کی صنعتیں پریشان اور متاثر ہیں جس کی وجہ سے صنعتیں نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی۔ سندھ حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت 25ہزار روپے غیر مناسب اور بلاجواز ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اجرت کا صنعتوں کو چلانے کی لاگت میں حصہ ہوتا ہے اور اضافی اجرت کے باعث صنعتوں کو چلانے کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ سندھ حکومت کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے صنعتکار اپنا سرمایہ اور صنعتیں دوسرے صوبوں یا بیرون ملک منتقل کرنے کی منصوبہ بندی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو ملک کی مجموعی برآمدات میں 54فیصد حصہ متاثر ہوگا۔ بکراچی سے حاصل ہونے و الے 67فیصد ریونیو اور سندھ ریونیو بورڈ کے لیے حاصل ہونے والے 95فیصد ریونیو میں کمی واقع ہو گی۔

سندھ حکومت سے اپیل ہے کہ صوبہ سندھ اور اس کی صنعتوں کے مفاد میں کم ازکم اجرت 25ہزار مقرر کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں