افغان طالبان نے چین کا بڑا خدشہ دور کر دیا

تیانجن (ویب ڈیسک) امریکہ رات کے اندھیرے میں افغانستان سے چلتا بنا جس کے بعد طالبان نے ملک کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا۔ امریکی فوج جدید قسم کا اسلحہ اور ٹینک بھی چھوڑ گئی جس سے افغان طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط ہو گئے۔

اب افغانستان کے ہمسائے ممالک کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے جس کی وجہ طالبان کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنا اور اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ اس حوالے چین سب سے زیادہ فکر مند ہے جس کی ایک وجہ اس کو سپر پاور بننا اور دوسری وجہ امریکہ کے ساتھ جاری ٹسل ہے۔

چین کی جانب سے اہم حکمت عملی کے تحت طالبان کا ایک وفد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ جس میں افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں 12 رکنی طالبان وفد چین کے شہر تیانجن پہنچا جہاں وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

یاد رہے کہ چین کو خدشہ تھا ترکستان اسلامک موومنٹ نے چین کے خلاف سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں